خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 152 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 152

خطبات ناصر جلد سوم ۱۵۲ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء کرنے والے کو چاہیے کہ اس مقام کی خواہش کرے اس سے نیچے کی خواہش تو کوئی خواہش نہیں۔انسان کو اس مقام کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہی آرزو ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مقام نعیم عطا کرے اور یہ وہ مقام ہے کہ حقیقی عزت اور حقیقی شان انسان کی اسی مقام میں ہے۔ایک دنیا دار انسان کو ساری دنیا کی بادشاہتیں بھی حقیقی عزت عطا نہیں کر سکتیں اگر ساری دنیا کی بادشاہتیں اکٹھی ہو کر یہ فیصلہ کریں کہ فلاں شخص دنیا میں معزز ترین انسان ہے اور اسی کے مطابق ( ظاہری طور پر ) اس سے سلوک کریں لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس کے لئے پیار نہ ہو بلکہ غضب کی جھلکیاں نظر آرہی ہوں تو نہ کوئی عزت ہے اس شخص کی نہ کوئی شان ہے اس شخص کی۔یہ مقام نعیم کی شان اور عزت اور احترام ہے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اس کے لئے میں نے تمہیں پیدا کیا اور اس کے حصول کی تمہیں کوشش کرنی چاہیے۔افریقہ کے دورہ میں واقفین مبشرین کے حالات میں نے دیکھے ان سے ملا جو عزت اللہ تعالیٰ نے ان کی اس مقام نعیم کی وجہ سے قائم کی ہے وہ میرے مشاہدہ میں آئی لیکن کچھ وہ بھی تھے کہ جو مقام نعیم کو حاصل نہیں کر سکے تھے ان کو بھی میں نے دیکھا اور ان کی زندگیوں کا مطالعہ کیا اور ان کے کاموں پر تنقیدی نگاہ ڈالی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان چھ 4 ممالک کے تمام مبشر انچارج جو ہیں وہ ظاہری طور پر جو مجھے نظر آیا ( دلوں کا حال تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور مستقبل اور غیب کی خبر صرف اسی کو ہے لیکن جو میں نے محسوس کیا ) اور جو میں نے مشاہدہ کیا وہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا ان پر بڑا فضل ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی اس مقام نعیم میں رہنے والے ہیں بے نفس ، اللہ کی محبت میں مست ، اس کی مخلوق کی خدمت کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس دنیا میں بھی عزت کو پانے والے ہیں۔نائیجیریا میں فضل الہی صاحب انوری ہیں۔غانا میں کلیم صاحب ہیں آئیوری کوسٹ میں قریشی (محمد افضل ) صاحب ہیں جن کو پنجابی میں بیبا مبشر ، بھی کہا جا سکتا ہے بہت سادہ اور پیاری ان کی طبیعت ہے بڑی پیار کرنے والی اور آرام سے سمجھانے والی اور اپنے آرام کو اور اپنی بہت سی ضرورتوں کو دوسروں کے لئے قربان کر دینے والی ہے طبیعت ان کی۔لائبیریا میں نئے مبلغ گئے ہیں امین اللہ سالک۔ابھی ان کے متعلق پوری طرح تو کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا لیکن اس وو