خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 561 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 561

خطبات ناصر جلد سوم ۵۶۱ خطبہ جمعہ ۲۴/ دسمبر ۱۹۷۱ء جامہ اور پاکیزگی کی رداء پر جب گناہ کے گندے دھبے پڑ جاتے ہیں تو وہ صرف آنسوؤں سے ہی اُن کو نہیں دھویا کرتا۔ویسے وہ آنسوؤں سے بھی دھوتا ہے لیکن وہ آنسو نہیں جو کمزوری کا نتیجہ ہوتے ہیں۔وہ آنسو بھی نہیں جو کسی غیر اللہ سے مدد مانگنے کے لئے بہائے جاتے ہیں اور وہ آنسو بھی نہیں جو بے صبری پر دلالت کرتے ہیں بلکہ وہ آنسو جو رات کے اندھیروں میں اپنے مالک و خالق اور پیار کرنے والے خدا کے حضور پیش کئے جاتے ہیں۔ان آنسوؤں سے بھی اپنی تقوی کی چادر کے اور فطرت کے جامہ کے اور پاکیزگی کے لباس کے دھبے دھوئے جاتے ہیں اور ایک مسلمان اپنے آنسوؤں سے یہ دھبے دھوتا ہے۔وہ رات کے اندھیروں میں سب سے چھپ کر خدا تعالیٰ کے حضور آنسو بہاتا اور پاک ہونے اور خدا تعالیٰ کی رحمت کا اہل بننے کی کوشش کرتا ہے۔تا ہم ایک مسلمان اپنی زندگی میں اپنے گناہوں کے اور اپنی کوتاہیوں کے اور غفلتوں کے دھبے صرف آنسوؤں ہی سے نہیں دھوتا بلکہ اس کے علاوہ وہ یہ دھبتے اپنے خون سے بھی دھوتا ہے۔وہ اپنے خون سے اپنی پاکیزگی کی رداء پر گل کاری کرتا ہے اور یہ خوبصورت پھول ان دھبوں کو چھپا لیتے ہیں اور اس کی باطنی خوبصورتی اور اندرونی محسن کو ظاہر کرتے ہیں۔خون ، موت !! یہ تو اسلام کے معنی کے اندر ہی موجود ہے۔اسلام کے معنے ہی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ میں گم ہو کر اپنے اوپر ایک موت وارد کرنا اور خدا تعالیٰ کی رحمت سے ایک نئی زندگی پانا۔میدانِ جنگ میں شرف شہادت پانے والا اگر وہ نیک نیتی سے اور خدا تعالیٰ کے لئے جان دے رہا ہو تو شہادت حاصل کر کے اُسی وقت زندوں کے زمرہ میں دوبارہ آجاتا ہے۔قرآن کہتا ہے تم ان شہیدوں کو مرا ہوا نہ کہو لیکن صرف شہید ہی نہیں بلکہ ایک کامل ایمان والا مسلمان بھی جب خدا تعالیٰ کے لئے اپنے اوپر ایک موت وارد کرتا ہے، تو وہ بھی خدا تعالیٰ سے اپنے لئے ایک ابدی زندگی حاصل کرتا ہے۔اگر آج ہم اپنے او پر اس قسم کی موت وارد کر لیں اگر ہم خدا تعالیٰ کے پیار میں کھوئے جائیں اگر ہم اپنے وجود پرفنا کی آندھیاں چلا کر خدا تعالیٰ کی صفات سے حصہ لینے لگیں تو دنیا کی کون سی طاقت ہے جو ہمیں مار سکے۔دنیا کی کوئی طاقت خدا تعالیٰ کے پیاروں کو نیست و نابود اور