خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 560
خطبات ناصر جلد سوم خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۷۱ء استغفار کے معنے یہ ہیں ( کیونکہ یہ لفظ غَفَرَ سے ہے ) کہ اللہ تعالیٰ سے حفاظت طلب کرنا اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں مانگنا کہ جو فساد اور رخنہ کسی رنگ میں پیدا ہو گیا ہے، وہ اُسے دُور کرے اور اصلاح امر کرے۔خلافت اولی کے زمانے میں اور پھر اس کے بعد صدیوں تک اور سچی بات تو یہ ہے کہ اب تک اسلام پر کمزوری کا زمانہ بھی آیا۔تکلیف کا زمانہ بھی آیا اور پریشانیوں کا زمانہ بھی آیا لیکن اس ارشاد باری تعالیٰ کے نتیجہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے جو دعائیں کی تھیں، وہ آڑے آئیں اور ان دعاؤں اور اُن دعاؤں کے بعد جو فیلی دعا ئیں ہم مانگتے ہیں ان کے نتیجہ میں رخنہ ڈور ہو گیا ، فساد جاتا رہا ، اصلاح امر ہو گیا اور پریشانیوں کی بجائے مسرتوں کے دن آگئے۔مگر شاید جگانے کے لئے یا جھنجھوڑنے کے لئے ابتلاء بھی آتے ہیں لیکن امت محمدیہ کا وہ حصہ جو اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق اور اس کے حکم سے استغفار کرتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، وہ اُسے بار بار رحمت کرنے والا اور مغفرت کرنے والا پاتا ہے۔کب ایسا ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہو اور اُس نے اپنی رحمت سے اُسے نہ نوازا ہو۔ہماری تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے ہر زمانہ میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور دنیا کا ہر ملک اور ہر قوم اس پر شاہد ہے۔آج بھی ہمارے لئے پریشانیوں اور اداسیوں کے دن ہیں مگر یہ وقتی اور عارضی پریشانیاں ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب سے قوت حاصل کریں اور اُس سے عاجزانہ دعائیں کریں کہ ہماری کوتاہیوں اور غفلتوں کے نتیجہ میں اور ہمارے گناہوں کی پاداش میں اس وقت جو پریشانیاں پیدا ہوئی ہیں ، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں معاف فرمائے اور ہماری اصلاح فرمائے اور ہماری آنکھیں کھولے اور ہمیں پھر صحیح راہ کی طرف لے آئے تاکہ یہ پریشانیاں دُور ہوجائیں اور انشاء اللہ یہ دُور ہو جائیں گی۔مسلمان کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ایک مسلمان کے لباس تقوی اور اُس کی فطرت کے