خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 436
خطبات ناصر جلد سوم ۴۳۶ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء ہر بندے سے وہ پیار کرو جس پیار کا اس نے اپنے بندے کو مستحق قرار دیا ہے اور اپنے آپ کو کسی سے اونچا اور برتر نہ سمجھو خواہ وہ صبح سے شام تک تمہیں گالیاں دینے والا ہو۔تم نہیں جانتے کہ کل کو اللہ تعالیٰ اسے نہ صرف ایمان کی توفیق دے بلکہ تم سے زیادہ مقبول عمل کرنے کی بھی توفیق دے کل کا تمہیں علم نہیں اور آج پر اترانے کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے۔پس مخالف کے ساتھ بھی پیار کا برتاؤ اور احسان کا معاملہ کرو۔اسے بھی اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ کے حسن کے نظارے دکھاؤ۔جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غلبہ اسلام کے خلاف سارے منصوبے ناکام ہوئے اور فتح مکہ کے موقع پر یہ عظیم نعرہ لگایا گیا اور پھر بعد میں ہمیشہ ہی آج تک لگایا جاتا رہا ہے ) اور وہ یہ کہ جب مخالفین کو اصلاح کا موقع ملا تو فرمایا " لا تثريب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (يوسف : ۹۳) آج تمہارے ہر قسم کے پچھلے گناہ معاف۔خدا تمہیں آئندہ نیکیوں پر قائم رکھے پس تم دنیا کے محسن کی حیثیت سے دنیا کے خادم بنائے گئے ہو اس لئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیار کرنے کا دعوی بھی رکھتے ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیار کرنے کی توفیق بھی عطا کی ہے اکثر کو۔الا مَا شَاءَ اللهُ کمزور اور منافق بھی ہوتے ہیں لیکن وہ تو کسی لحاظ سے بھی کسی شمار میں نہیں ہوتے۔غرض اللہ تعالیٰ نے تمہیں جس عظیم عطا سے نوازا ہے۔اس کی قدر کرو اور دنیا کے دل اس عظیم عطا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنے کی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی اس کی تو فیق عطا فرمائے۔(اللهم آمین) روزنامه الفضل ربوہ ۴ / جولائی ۱۹۷۱ ء صفحہ ۱ تا ۷ )