خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 435
خطبات ناصر جلد سوم ۴۳۵ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء اور ان تمام سازشوں نے مسلمانوں کے چہروں سے نہ مسکراہٹیں چھینیں اور نہ ان کی قوت عمل سے قوت احسان کو چھینا مثلاً حضرت خالد بن ولید اٹھارہ ہزار کی فوج لے کر کسری کی لاکھوں کی فوج کے مقابلے میں چلے گئے تھے۔انہوں نے کسری کو اپنے پہلے خط میں لکھا کہ میں تمہیں اس بات سے متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ جاں شار سپاہی جو تمہارے مقابلے پر آئے ہیں وہ موتوں سے اس سے زیادہ پیار کرتے ہیں جتنا تم اپنی زندگیوں سے پیار کرتے ہو چنانچہ ان کے چہرے مسکرا رہے تھے۔موت ان کے سامنے کھڑی تھی لیکن موت کا یہ احساس ان کی مسکراہٹ نہیں چھین سکا۔مگر مخالفین اسلام کی زندگی کی محبت اور پیار ان کو موت سے بچا نہیں سکا غرض ساری دنیا اکٹھی ہو کر بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں سے مسکراہٹیں نہیں چھین سکی کیونکہ ساری دنیا نے ظلم ڈھانے کی کوشش کی لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین سے قوت احسان نہیں چھینی گئی۔ہم اب تھوڑے سے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے فیضان کے جلوے ہماری زندگیوں میں بھی نظر آرہے ہیں۔کئی لوگ حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ بات کیا ہے؟ میں ان سے کہا کرتا ہوں کہ بات یہی ہے کہ انی سالہ تکفیر اور انٹی سالہ مخالفت نے نہ ہمارے چہروں سے مسکراہٹ چھینی ہے اور نہ ہم سے قوت احسان چھینی ہے۔ہم ہنستے ہوئے چہروں کے ساتھ بغیر کسی ایک شخص کی بھی دشمنی دل میں لئے ہمیشہ ہر شخص پر احسان کرتے یا کرنے کے لئے تیار ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں جتنی طاقت دے رکھی ہے اس کے مطابق ہم ہر شخص سے احسان کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو قوتِ احسان عطا کرتا ہے اسے وہ ایک ایسی عظیم تلوار دیتا ہے۔(اگر مادی رنگ میں مثال دینی ہو ) جس کے ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہیں اور جس کی دھار کے کند ہونے کا کوئی ڈر نہیں۔بس مسکراتے اور ہنستے ہوئے دنیا کے سارے منصوبوں کی خار دار جھاڑیوں کے درمیان سے اپنے نرم راستے کے اوپر آگے بڑھتے چلے جاؤ اور قوتِ احسان ایک عجیب نعمت ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ قوت عطا کی ہے اس قوت کے استعمال میں اپنے اور بیگانے میں فرق نہ کرو۔خدا کے