خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 271
خطبات ناصر جلد سوم ۲۷۱ خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء پختگی سے قائم تھے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا رسول مانتے تھے اور اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بات آپ کو بتائی ہے وہ واقعہ ہی بتائی ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی طاقت والا ہے وہ بات غلط نہیں ہو سکتی۔میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں بھی بتایا تھا کہ ایک قلعہ جو فتح نہیں ہورہا تھا اسے ایک صحابی نے فتح کر لیا۔وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ مجھے دیوار کے پرے پھینک دو۔پہلے تو ان کے ساتھی مانتے نہیں تھے یہ ایک لمبی تفصیل ہے۔بہر حال وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اندر گئے۔گیٹ پر موجود سپاہیوں کو قتل کر کے گیٹ کھول دیا فوج اندر آ گئی اور اس طرح ایک آدمی کی جرأت سے قلعہ فتح ہو گیا۔کیا وہ صحابی پاگل تھے؟ نہیں وہ پاگل نہیں تھے ان سے زیادہ عقلمند انسان دنیا میں پیدا ہی نہیں ہوا تھا کیونکہ جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے اور اس کی صفات کی معرفت رکھتا ہے اس سے زیادہ عقلمند کوئی نہیں ہو سکتا قرآن کریم نے صرف یہ نہیں کہا کہ اللہ پر ایمان لا ؤ اور اس کی صفات جس رنگ میں قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں یا جس رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تفسیر بیان فرمائی ہے اس رنگ میں ان کی معرفت حاصل کرو۔مثلاً اللہ تعالیٰ پر رب ہونے کے لحاظ سے ایمان لاؤ کیونکہ ساری ربوبیت عالمین کا منبع اور سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔آپ دنیا کے ماحول پر نگاہ ڈالیں تو پتہ لگتا ہے کہ سارا کارخانہ عالم اس کی اس صفت پر چل رہا ہے یعنی ایک تدریجی ارتقاء ہے جور بوبیت کا تقاضا کرتا ہے یہ میرے سامنے درخت ہے ایک وقت میں اس کی چھوٹی سی گٹھلی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ اسے غذا ملتی رہے۔بڑا ہو اور پتے نکالے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ ایک گٹھلی میں آگے ہزاروں لاکھوں درختوں کے پیدا ہونے کے لئے Cells (سیلز) یعنی نقطے مخفی ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت ہر جگہ نظر آتی ہے اپنے گھروں میں اپنے بچوں پر نگاہ ڈالیں اپنے اوپر نگاہ ڈالیں اپنے کپڑوں پر نگاہ ڈالیں اپنے جوتوں پر نگاہ ڈالیں آپ کو نظر آئے گا کہ ہر چیز نے ترقی کے مختلف ادوار یا Changes ( چینجز ) میں سے گزر کر یہ آخری شکل اختیار کی ہے کچھ تبدیلیاں ایسی ہیں جو انسان نے اپنے ہاتھ سے کی ہیں اس عقل کے نتیجہ میں جو اللہ تعالیٰ نے اسے دی ہے اللہ تعالیٰ