خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 270 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 270

خطبات ناصر جلد سوم ۲۷۰ خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء اپیل کی اور انہوں نے بھی اس سزا کو بحال رکھا پھر انہوں نے مجھے دعا کے لئے لکھا (ویسے پہلے بھی وہ دعا کے لئے لکھتے رہتے تھے ) لیکن قبولیتِ دعا یا انکار کے اوقات بھی اسی نے مقرر کئے ہوئے ہیں کیونکہ وہ مالک ہے جب انہوں نے پریذیڈنٹ کے پاس اپیل کی تو ان کے ایک عزیز نے سارے حالات بتاتے ہوئے لکھا کہ اس طرح کا یہ مقدمہ ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایسے حالات میں صدر رحم کی اپیل منظور کر لے لیکن بہر حال یہ آخری موقعہ تھا ہم نے اپیل کی ہے آپ دعا کریں۔اب جس چیز کی طرف میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں اسے میں آگے بیان کرنے والا ہوں چنانچہ میں نے خط پڑھا اس وقت ایک رائے میرے دماغ میں یہ آئی اور میں نے اپنے دماغ میں یہ فقرہ بنالیا کہ جب ایسے حالات ہوں تو مصیبت میں صبر کرنا چاہیے اور کوئی گھبرانے کی بات نہیں ابھی میرے قلم نے یہ فقرہ لکھا نہیں تھا کہ میرے رب نے مجھے پکڑا اور جھنجھوڑا اور مجھے یہ کہا کہ تم ایک احمدی کو یہ سبق دینا چاہتے ہو کہ اس کی زندگی میں ایک ایسا موقع بھی آسکتا ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ اس کی مدد نہیں کر سکتا خیر قلم نے تو ابھی کچھ لکھا نہیں تھا میں نے استغفار پڑھی اور انہیں لکھا کہ اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی چیز ان ہونی نہیں آپ گھبرائیں نہیں میں دعا کروں گا ابھی پندرہ دن نہیں گزرے تھے کہ ان کا خط آیا کہ رحم کی اپیل منظور ہوگئی ہے اور وہ سب رہا ہو کر گھروں میں آگئے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس قسم کی قدرت رکھنے والا ہے۔اس سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اسی واسطے اللہ تعالیٰ 66 نے فرمایا ہے لا تقنَطُوا کیونکہ مایوسی شرک ہے۔اس سے اللہ تعالیٰ کے لئے ایک ضعف کا احتمال ہوتا ہے یہ ایمان باللہ نہیں ہے ہم اس قادر مطلق پر ایمان لاتے ہیں جو ایک ذرہ حقیر کے ذریعہ دنیا میں ایک عظیم انقلاب بپا کر دیتا ہے میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اسلام کے پہلے تیس سالہ دور میں مسلمانوں کی کامیابیوں کے نتیجہ میں جو ایک عظیم انقلاب بپا ہو گیا تھا مسلمانوں نے قیصر وکسریٰ کی زبر دست باشاہتوں کے تختے الٹ دیئے تھے ان کا میابیوں کی جان در حقیقت دس پندرہ ہزار صحابہ کرام تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت پائی تھی بعد میں آنے والے غیر تربیت یافتہ لوگ یہ کام کر ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ صحابہ کرام اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے اور اس پر