خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 231
خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۷۰ء نے اس وقت اللہ تعالیٰ کے قہر اور جلال کے مقابلے میں اپنے قہر اور جلال کو دکھانا چاہا تب وہ اللہ تعالیٰ کے قہر اور جلال سے تباہ ہو گئے یہ خدائی قہر کا جلوہ ان کے خلاف تھا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کو مٹانا چاہا اور خدائی محبت کا جلوہ ان لوگوں کے حق میں تھا جنہوں نے خدا تعالیٰ کے مقابلے پر آنے والی شیطانی طاقتوں کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانوں کو اس کی راہ میں قربان کیا اور اس طرح وہ ابدی حیات کے وارث بنے اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو پایا اور اس کی جنتوں میں اپنا ٹھکانا بنایا۔پس ایک پہلو سے یہ قہر کا جلوہ ہے اور دوسرے پہلو سے یہ انتہائی فضل اور رحمت اور پیار اور رضا کا جلوہ ہمیں نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ وعدہ بھی دیا کہ اسلام ایک وقت کے بعد کمزور ہو جائے گا اور دنیا کی سب طاقتیں اکٹھی ہو کر اس پر آخری ضرب لگانے کا منصوبہ بنائیں گی اور سمجھیں گی کہ اب اسلام دنیا سے مٹا دیا جائے گا۔یہ وہ زمانہ ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت ہوئی (ضمناً حضور نے ایک بچے کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے میرے پیارے بچے! حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام حضرت مرزا غلام احمد تھا۔دوست اپنے گھروں میں بچوں کو یہ نام بتایا کریں۔ابھی پچھلے دنوں راولپنڈی سے ایک خادم آئے جب اس سے پوچھا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا نام کیا تھا ؟ تو کہا مجھے تو پتہ نہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا نام کیا تھا ؟ کہا مجھے تو علم نہیں۔گھروں میں آپ اپنے بچوں سے باتیں نہیں کریں گے تو اس قسم کے جاہل بچے آپ کے گھروں سے تربیت پا کر نکلیں گے ) غرض اس تنزل کے زمانہ میں حضرت مہدی معہود علیہ السلام جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین روحانی فرزند تھے وہ مبعوث ہوئے۔وہ زمانہ آج کی دنیا بھول گئی ہے ان کی یاداشت اس کا ساتھ نہیں دیتی یہ وہ زمانہ ہے جب حضرت عماد الدین صاحب نے جو اجمیر کی شاہی مسجد کے امام تھے۔”حضرت“ میں نے اس لئے کہا ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کے نزدیک حضرت ہی تھے کیونکہ یہ شخص بڑے پایہ کا عالم تھا اس نے عیسائیت کو قبول کر لیا اور ایک مضمون لکھا عیسائیوں کی ایک کانفرنس کے لئے جو امریکہ میں منعقد ہو رہی تھی اس مضمون میں اس نے ویسے تو بہت کچھ لکھا مگر