خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 230
خطبات ناصر جلد سوم ۲۳۰ خطبہ جمعہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۷۰ء شروع زمانہ اسلام میں آپ کے وجود میں محمدیت کے جلووں کا ظہور ہوا یعنی اللہ تعالیٰ کا جلال اور اس کا قہر دنیا پر نازل ہوا۔اصل تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے جب اس کا قہر اور جلال نازل ہوتا ہے تو وہ بھی رحمت ہی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ کی رحمانیت اور جلالت کا یہ جلوہ ہے کہ اس نے انسان کو اجازت دی کہ وہ اپنے جسم کی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے بکرے یا نبے یا مرغی یا دوسرے حلال اور طیب جانوروں کو ذبح کرے اور اُن کی جان لے۔پس ایک طرف ایک پہلو سے اللہ تعالیٰ کے جلال کا جلوہ ہے کہ ایک جان اس کے حکم اور اجازت سے لی گئی اور دوسری طرف اس کی رحمت کا جلوہ ہے کہ وہ جسے اس نے اشرف المخلوقات بنایا تھا اس کی جان کی حفاظت کے لئے اور اس پر رحم کرتے ہوئے دوسری مخلوقات میں سے جانیں تلف کروائیں جو کیڑے مثلاً بھیڑ کے معدے میں پیدا ہو جاتے ہیں اور اس کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں ان کیڑوں کو مارنے کی اجازت دی اور اس کے لئے سامان پیدا کئے اور دنیا میں ایسی دوائیں بنائیں جس کے نتیجہ میں وہ کیڑے مر سکتے ہیں تا کہ اس طرح کیڑے کے مقابلہ میں بھیٹر جو کہ اشرف مخلوق ہے اس کی زندگی کو محفوظ رکھا جائے ویسے اشرف المخلوقات تو صرف انسان ہے اور اسی نسبت سے جانداروں کے شرف کو قائم کیا جاتا ہے کیڑے انسانی جسم کے لئے مفید نہیں لیکن بھیڑ کا گوشت انسانی جسم سے زیادہ مناسبت رکھتا اور اس کی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے ایک مفید چیز ہے۔بھیڑ کی جان کو بچانے کے لئے کیڑوں کو تلف کر دیا۔اب یہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت اور اس کے جلال اور قہر کا جلوہ ہے اور بھیڑ کی حفاظت کی اور انسان کے لئے ایک طیب گوشت کی حفاظت کی یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے جلال اور رحمانیت کا جلوہ ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا کہ محمد اور احمد کے دو جلوے تیرے روحانی وجود سے دنیا دیکھے گی وہ عظیم جلوے کہ جن کے نور سے ساری دنیا منور ہوگی اور جس کے روحانی فیوض سے ساری دنیا مستفیض ہوگی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام کے ابتدائی دور میں محمد کے جلوے دنیا نے دیکھئے آپ کے نفس میں بھی دیکھے اور آپ کے متبعین کے نفوس میں بھی دنیا نے یہ جلوے دیکھے۔دنیا