خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 232
خطبات ناصر جلد سوم ۲۳۲ خطبہ جمعہ ۱۷ / جولائی ۱۹۷۰ء میں اس وقت صرف دو باتوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ایک تو اس نے پتے دے کر ایک سو سے زائد علماء اور قرآن کریم کے حفاظ اور سید زادے اور مغل خاندانوں سے تعلق رکھنے والے اور پٹھانوں وغیرہ کے نام لکھے اور کہا کہ ہندوستان کے شمالی حصوں کے یہ لوگ جو بڑے بڑے عالم اور قرآن کریم کے لحفاظ ہیں عیسائی ہو چکے ہیں اور جہاں پہلے عیسائیت آئی تھی یعنی کلکتہ اور بمبئی وغیرہ وہاں کا جو حال ہو گا اس کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں دوسرے اس نے یہ لکھا کہ وہ دن عنقریب ہندوستان پر چڑھنے والا ہے کہ جب کوئی شخص اگر کسی مسلمان کو دیکھنے کی خواہش کرے گا تو اُسے کوئی مسلمان نظر نہیں آئے گا اور اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہو گی۔اس حد تک اسلام گر چکا تھا اور اس حد تک منصوبے بنائے گئے تھے اسلام کو مٹانے کے لئے۔بعض پادریوں نے لکھا کہ وہ وقت قریب ہے اللہ تعالیٰ کی اُن پر لعنت ہو ) کہ خانہ کعبہ پر خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا لہرائے گا بعض نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ سارے براعظم افریقہ کو ہم خداوند یسوع مسیح کے لئے جیت لیں گے اور مسلمانوں کا یہاں سے نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔اس قسم کی بڑیں تھیں جو یہ ہانک رہے تھے اور یہ خالی بیان نہیں تھے بلکہ اس کے پیچھے بڑا زبر دست منصوبہ تھا اسلام کو مٹانے کے لئے اربوں روپے اسلام کو مٹانے کے لئے جمع کر لئے گئے تھے لاکھوں واقفین اس وقت عیسائیت کے پاس موجود تھے جنہوں نے اپنی ساری زندگیاں عیسائیت کو پھیلانے کے لئے وقف کر رکھی تھیں اور اس طرح اُنہوں نے ساری دنیا میں دجل کا ایک جال پھیلا رکھا تھا۔غلط دلائل، افترا ، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے خلاف باتیں، پیسہ، اپنی لڑکیاں دوسروں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے یعنی ہر قسم کا گند انہوں نے استعمال کیا تھا۔اسی طرح تعلیم کے سامان ، کالج ، ہسپتال، بیماروں کے ساتھ ہمدردی اور اسلام کا کوئی نام لیوا نہیں تھا اور ادھر ساری دنیا کی طاقتیں جیسا کہ میں نے کہا اسلام پر آخری اور کاری ضرب لگانے کے لئے اکٹھی ہو گئی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ ہر چیز کا کمال اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کے زوال کا وقت آگیا چنانچہ جس وقت اسلام کے خلاف شیطانی منصوبے