خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 210
خطبات ناصر جلد سوم ۲۱۰ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء Scientific Explanation سائنٹیفک ایکس پلے نیشن) تو میرے ذہن میں نہیں آیا لیکن میں نے محسوس کیا کہ ان کی خوشی صوتی لہروں میں بھی ایک ارتعاش پیدا کرتی تھی بغیر آواز کے اور میرے کانوں نے ان کی خوشی کی لہروں کو محسوس کیا اور اس کا اثر صرف مسلمانوں پر ہی نہیں ہوتا تھا ان کو تو تھوڑا بہت پہلے سے علم ہے عیسائی بھی متاثر ہوتے تھے اور وہ مشرک اور بدھ مذہب جن میں ابھی تک بڑی ظالمانہ رسوم رائج ہیں وہ بھی سنتے تھے کہ اسلام کا پیش کردہ صداقت اور محبت اور پیار اور ہمدردی اور غم خواری اور خدمت اور اسلام مساوات کا یہ اعلان ہے اور یہ سلوک ہے تو اثر قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے غرض کیا عیسائی اور کیا مشرک اور بدھ مذہب جب ہماری ان باتوں کو سنتے تھے تو وہ اتنا اثر قبول کرتے کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ٹیچی مان میں عبدالوہاب بن آدم ہمارے مبلغ ہیں جو انشاء اللہ گل اس کو میں جا کر وہاں کے انچارج مشن بنیں گے وہ بڑا اچھا کام کر رہے ہیں۔وہاں ہم گئے تھے انہوں نے وہاں بہت بڑی مسجد بنوائی ہے جو آپ کا نقشہ ہے اس مسجد کا اس سے چار گنا بڑی ہے۔میں نے اس کا افتتاح کرنا تھا دوستوں سے ملنا تھا وہاں اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جماعت کا اتنا رعب ہے کہ بڑے بڑے پادریوں کو بھی مجبوراً ہمارے جلسوں میں شامل ہونا پڑتا ہے کچھ تو انہوں نے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ یہ کام کیا کر رہے ہیں؟ اور کس طرف ان کا رُخ ہو رہا ہے؟ غرض اس جلسہ میں جو پادری آئے ہوئے تھے ان میں اس سارے علاقے کے کیتھولک مشنز کا انچارج بشپ بھی موجود تھا۔لیکن بیٹھا شروع میں اس طرح تھا کہ جیسے اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے مجبوری تھی شامل ہو گیا ایک موقعہ پر تقریر کے دوران میں میں نے یہ کہا۔One who was paramount prophet پیرا ماؤنٹ چیف ان کا محاورہ ہے میں نے ان سے عاریتہ لے لیا ) یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمہارے کان میں یہ کہہ رہے ہیں کہ انما انا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ (حم السجدة : - ) میں تمہارے جیسا انسان ہوں، تم میرے جیسے انسان ہو۔بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں تو پھر "Those who were junior to him like Moses and Christ۔"