خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 211 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 211

خطبات ناصر جلد سوم ۲۱۱ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء وہ بھی انسان ہی تھے۔اس لحاظ سے وہ تم پر کیسے برتری کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔وہ پادری صاحب اُچھل کر بیٹھ گئے کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ لوگ اس سے متاثر ہوں گے۔پس میں نے ان کو بڑا شریف النفس، سعید الفطرت اور سادہ مزاج پایا اور میں نے ان کو جو دیا وہ اسلام کا یہ پیغام تھا کہ انسان انسان میں کوئی فرق نہیں ہے ہر ایک سے محبت کرنی چاہیے۔اُردو میں جس معنی میں محبت کا لفظ استعمال ہوتا ہے اس معنے میں میں اس کو استعمال کر رہا ہوں کیوں کہ میں اردو میں بات کر رہا ہوں (عربی میں ایک اور معنے میں استعمال ہوتا ہے وہ یہاں استعمال نہیں ہوسکتا ) جس کو ہم پیار اور محبت کہتے ہیں۔اسلام کا وہ پیغام ہے ہمدردی اور خیر خواہی اور مساوات کا کہ کوئی فرق نہیں کرنا۔اپنے آپ کو کسی دوسرے انسان سے بڑا نہیں سمجھنا۔یہ پیار میں ان کے پاس لے کر گیا تھا، یہ محبت میں ان کے پاس لے کر گیا تھا۔ہمدردی اور غم خواری اور خدمت کا یہ جذ بہ اور مساوات کا یہ اعلان میں ان کے پاس لے کر گیا تھا اور اس کے وہ حق دار تھے۔ابھی چند دن ہوئے مجھے عبد الواہاب ہی کا خط آیا ہے اس نے لکھا ہے کہ آپ نے احمدی غیر احمدی ، بڑے چھوٹے ، عیسائی اور مشرک ہر ایک سے جس قسم کی شفقت کا سلوک کیا ہے اس کی یاد ہماری قوم کے دل سے نہیں مٹے گی۔میں نے ان کو جو جواب دیاوہ یہ ہے کہ جو میں نے دیا وہ ان کا حق تھا ان کا جو حق تھا وہ میں نے انہیں دے دیا اس واسطے میں نے کیا احسان کیا میں سوچا کرتا تھا کہ میں بچوں کو جو پیار کرتا تھا یہ ان کا حق تھا میں ان کو دے رہا ہوتا تھا اب پیار پر نہ دھیلہ خرچ ہو نہ وقت خرچ ہولیکن اتنا اثر ہوتا تھا کہ اگر آپ لاکھ روپیہ خرچ کر دیں تو اس کا شاید اتنا اثر نہیں ہوگا وہ پیار کے بھوکے ہیں کیونکہ وہ صدیوں پیار کی آواز میں گم ہو کر غیر ملکوں کی توپوں کا نشانہ بن گئے تھے۔میں نے بہت سے عیسائیوں کو کہا کہ میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں (ضمنا میں یہ بتا دوں کہ جو بیچ ہے اسے بہر حال تسلیم کرنا چاہیے جو امر واقعہ ہے اس کو چھپانے کی ضرورت نہیں۔غرض میں نے اُن سے کہا کہ جب تمہارے ملکوں میں عیسائی پادری داخل ہوئے تو انہوں نے یہی نعرہ لگایا تھا کہ ہم عیسائیت کی محبت کا پیغام لے کر آئے ہیں۔لیکن ان کے پیچھے پیچھے ان ممالک کی جہاں سے وہ آئے تھے۔فوجیں تمہارے ملکوں میں داخل ہو ئیں توپ خانے بھی ساتھ آئے ، گوان