خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 209
خطبات ناصر جلد سوم ۲۰۹ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء بہر حال ایک حبشی جو مکہ کے پیرا ماؤنٹ چیفس کا غلام تھا اور وہ اس کے ساتھ نفرت اور حقارت کے ساتھ پیش آتے تھے ان کے دلوں میں اس کی کوئی عزت نہیں تھی کسی قسم کی عزت کا اظہار ان سے نہیں ہوا کرتا تھا۔پھر خدا کا کرنا کیا ہوا کہ یہی حبشی غلام جو ان کی نگاہوں میں بڑا ذلیل تھا اللہ تعالیٰ نے اسے نور دکھایا اور وہ اسلام لے آیا۔پہلے صرف نفرت اور حقارت تھی اب نفرت اور حقارت کے ساتھ ظلم بھی ہو گیا اُنہوں نے اس کو اس طرح اذیت پہنچائی کہ آج بھی ہم سوچتے ہیں تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پھر ایک مسلمان کو خیال آیا اس نے اسے خرید کر آزاد کر دیا اور وہ مسلمان معاشرہ کا ایک فرد بن گیا۔مسلمان معاشرہ کا فرد تو ویسے اسلام لانے کے بعد ہی بن گیا تھا مگر غلامی کی زنجیروں کی وجہ سے عملاً مسلمان معاشرہ کا فرد نہیں بن سکا تھا۔پھر وہ بڑے سے بڑے مسلمان گو اس وقت چند ایک ہی سہی کیونکہ اس وقت رؤسائے مکہ میں سے چند ایک مسلمان ہو چکے تھے ، ان کے برابر ہو گیا اور وہ عملاً ان کی زندگیوں کے برا بر تھا کوئی فرق نہیں تھا۔پھر خدا تعالیٰ نے فتح مکہ کے موقع پر انسانیت کو وہ عظیم نظارہ دکھایا کہ دنیا کی تاریخ جس کی مثال نہیں لا سکتی۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جھنڈا تیار کروایا ( میں نے تصور کی نگاہ سے وہاں کا نقشہ اپنے ذہن میں لانے کی کوشش کی ہے ) لوگ حیران ہوتے ہوں گے کہ ایک نیا جھنڈا کیوں تیار کروایا جارہا ہے۔بہر حال ایک جھنڈا تیار کروایا اور فرمایا یہ بلال کا جھنڈا ہے۔آپ نے اس جھنڈے کو بلال کا نام دیا اور ایک جگہ اسے نصب کروا دیا اور پھر انہی رؤسائے مکہ کو فر ما یا کہ جس شخص کو تم نفرت اور حقارت سے دیکھا کرتے تھے اور جس پر تم ظلم ڈھایا کرتے تھے آج اگر پناہ چاہتے ہو تو اس کے جھنڈے کے نیچے آجاؤ یہ ایک مثال ہے جو درجنوں مثالوں میں سے نظر آتی ہے۔ہمارا یہ دعویٰ کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں تبھی کسی حقیقت اور صداقت کا حامل بن سکتا ہے اگر ہم اس کے مطابق عمل کریں تاہم اس حصہ کو میں بعد میں لوں گا۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ حسنہ میرے سامنے تھا چنانچہ ان کے سامنے جب میں یہ بات بیان کرتا تھا مختلف موقعوں پر مختلف لوگوں کے سامنے کیونکہ ملک بھی دوسرا ہوتا تھا اور جگہ بدلنے سے ۹۹ فیصد جو اس جلسے میں ہوتے تھے وہ بھی مختلف ہوتے تھے بلا مبالغہ