خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 182 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 182

خطبات ناصر جلد سوم ۱۸۲ خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۷۰ء مثلاً عمر اور عادات وغیرہ وغیرہ ہزاروں باتیں ہیں یہ سب دیکھ کر پھر ان کو وہاں بھجوائیں گے۔ویسے وہاں بڑا ہی مخلص دل انسان جانا چاہیے جس کے او پر ہم پورے طور پر اعتماد کرسکیں مثلاً نائیجیریا میں ہمارے ایک ہسپتال کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ انہوں نے پندرہ ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کی سیونگ کی۔وہاں ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہوتا بس اخلاص سے وہ ہر مہینے آپ ہی رقم بھیج دیتے ہیں سارے میڈیکل سنٹرز کا یہی حال ہے وہ لکھ دیتے ہیں کہ ہمارے سارے اخراجات کے بعد یہ رقم بچی ہے اسے ہم بھجوار ہے ہیں۔پس ہمیں اس قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے کیونکہ جو رقم بچتی ہے وہ کسی کی ذات پر تو خرچ نہیں ہوئی ان ملکوں پر خرچ ہونی چاہیے۔اور میرا اندازہ یہ ہے کہ اگر گیمبیا میں مثلاً چار ہیلتھ سنٹرز کھل جائیں تو ہم وہاں ہر سال ایک نیا بائی سکول کھول سکتے ہیں ہم نے ان دونوں میدانوں میں متوازی طور پر بڑی سرعت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے لیکن وہاں پہلے طبی امداد کے مراکز کھلنے چاہئیں۔دوست اپنے نام پیش کریں اور محمد اسمعیل صاحب منیر جو متعلقہ کمیٹی کے سیکرٹری مقرر کئے گئے ہیں وہ مطلوبہ کوائف کے متعلق اخبار میں اعلان کرائیں اور بار بار اعلان کرائیں۔میرے خیال میں ہمارے احمدی ڈاکٹروں کی ایک مجلس بھی ہے اس کی میٹنگ بھی بلائیں پھر انہی کے سپر د کریں گے کہ سب کے کوائف کو مد نظر رکھ کر منتخب کریں کہ کون زیادہ موزوں ہے۔ویسے تو بعض دفعہ بظاہر ایک ناموزوں انسان بھی جب وہاں چلا جاتا ہے تو اگر وہ دعا کرنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی قابلیت بھی بڑھا دیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی سر چشمہ ہے علوم کا اور قابلیت کا۔شفا بھی اس کی ہے باقی تو اس دنیا میں سب پردے ہیں جن کے پیچھے ہمیں اس کی صفات کے جلوے نظر آرہے ہیں۔آج میں نے تین باتیں کہی ہیں ایک یہ کہ آپ کی فراست اور آپ کی بیداری سے منافق کو پتہ لگ جانا چاہیے کہ نفاق اس سلسلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتا دوسرے یہ کہ میں نے جو نصرت جہاں ریز روفنڈ“ قائم کیا ہے اس میں اس وقت تک انگلستان کی جماعتیں دوسرے ہر ملک کی جماعتوں سے آگے نکلی ہوئی ہیں۔اس وقت تک کا میں نے اس لیے کہا ہے کہ اس فنڈ کے متعلق میں نے پہلے ان سے