خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 183 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 183

خطبات ناصر جلد سوم ۱۸۳ خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۷۰ء اپیل کی تھی لیکن خدا کرے کہ صرف یہی وجہ ہو اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہ ہو اور آپ جلد ان سے آگے نکلنے کی کوشش کریں اور تیسری بات میں نے یہ کہی ہے کہ احمدی ڈاکٹر اور ٹرینڈ ٹیچرز رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کریں اور دین و دنیا کی حسنات کے وارث ہوں۔جیسا کہ میں نے لندن میں بھی کہا تھا آپ کو بھی وہی بات کہہ دیتا ہوں۔آپ رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کریں ورنہ اگر رضا کارانہ طور پر جو خدمات پیش کی گئیں اگر ضرورت کے مطابق نہ ہو ئیں تو پھر میں حکم دوں گا اور اس صورت میں آپ کے لئے دو راستے کھلے ہوں گے یا جماعت کو چھوڑ کر علیحدہ ہوجائیں یا پھر خلافت کی اطاعت کریں اور آپ خلافت کی ضرور اطاعت کریں گے، انشاء اللہ۔لیکن ایک رضا کارانہ خدمت اور ایک وہ خدمت جس میں کچھ مجبوری کا اثر بھی ہو اس خدمت میں ہماری عقل ( اللہ تعالیٰ کو تو پتہ نہیں کیا منظور ہوتا ہے ) ضرور فرق کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے اعمال کی توفیق بخشے جن سے وہ راضی ہو جائے اور جس کے نتیجہ میں اس کا وہ وعدہ پورا ہو جو اس نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا اور جس کے پورا کرنے کے لئے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا تھا اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض کے نتیجہ میں مہدی معہود کے زمانہ میں تمام اقوامِ عالم کو اخوت اور برادری کے سلسلہ میں پرو دیا جائے گا۔یہ وہ عظیم وعدہ ہے جو ہمیں دیا گیا ہے اور یہ وہ عظیم وعدہ ہے جس کے پورا ہونے کے آثار اسلام کے افق پر آج ہمیں نظر آرہے ہیں اور خدا تعالیٰ نے جو یہ وعدہ کیا ہے وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔سوال صرف یہ ہے کہ اس وعدہ کے پورا کرنے کے لئے وہ ہم سے جو قربانیاں مانگتا ہے کیا ہم اس کی منشاء کے مطابق اس کی رضا کے حصول کے لئے اس قدر قربانی پیش کر دیں گے؟ جتنی وہ چاہتا ہے کہ ہم پیش کریں اگر ہم ایسا کریں گے تو آپ یہ یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ یہ بشارت دی ہے کہ ہم پر بھی ہمارا رب کریم اسی طرح فضل اور رحم فرمائے گا جس طرح اس نے صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے فضلوں اور رحمتوں کی بارش برسائی تھی۔اس سے بڑھ کر ہمیں کوئی بشارت مل نہیں سکتی اور اس سے بڑھ کر کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا وارث بن نہیں سکتا۔پس آج وقت ہے دنیا ، دنیا