خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 181
خطبات ناصر جلد سوم ۱۸۱ خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۷۰ء جار ہے (اگر چہ دنیا ان کو پھر بھی مل جاتی ہے ) ان کی نیت یہ ہونی چاہیے کہ وہ دنیا کمانے کے لئے نہیں جار ہے بلکہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے جارہے ہیں اور اس کی مخلوق کی خدمت کرنے کے لئے جار ہے ہیں۔پس ان لوگوں سے پیار کریں ان سے ہمدردی رکھیں جب کوئی بیمار آپ کے پاس آئے یا آپ کسی بیمار کے پاس جائیں تو آپ اس سے نہایت محبت اور خندہ پیشانی سے اور ہمدردانہ طریق سے پیش آئیں ایک اچھے اور نیک ڈاکٹر کی تو باتیں بھی آدھی مرض کو دور کر دیتی ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق ان کے لئے بہت دعائیں کریں اور یہ ایک عظیم فرق ہے ایک احمدی ڈاکٹر اور اس ڈاکٹر میں جو ابھی احمدی نہیں۔ایک احمدی ڈاکٹر اپنے مریض کی صرف تشخیص ہی نہیں کرتا یا اسے دوا ہی نہیں دیتا بلکہ اس کے لئے دعائیں بھی کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کے کاموں میں برکت ڈالتا ہے جس کے نتیجہ میں ان مریضوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے۔ہم نے دنیا کے دل خدا اور اس کے رسول کے لئے اپنی محبت اور پیار اور خدمت اور ہمدردی اور غم خواری اور مساوات کے جذبہ سے جیتنے ہیں یہ ہمارا فرض ہے پس ہر ڈاکٹر کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ کس غرض کے لئے وہاں گیا ہے پھر اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ میں شفا بخشے گا۔اس وقت جو ڈاکٹر وہاں گئے ہیں میں عام طور پر ان کے لئے دعائیں کرتا ہوں۔مثلاً ڈاکٹر سعید ابھی تھوڑا عرصہ ہوا ہے وہاں گئے ہیں۔میں نے انہیں بھجوایا تھا۔ان دنوں میں میرے دل میں خاص طور پر یہ جذبہ تھا میں نے بڑی دعا کی کہ اے اللہ ! تیری راہ میں یہ شخص سات ہزار میل دُور جا رہا ہے تو اپنے فضل سے اس کے ہاتھ میں شفا بخش دے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفا بخش دی اور وہاں وہ بڑے کامیاب ڈاکٹر ہیں۔پس کم از کم ۳۰ ڈاکٹروں کی ضرورت ہے (اور مجھے امید ہے اس سے زیادہ ہو جائیں گے ) کچھ تو انگلستان میں پڑھنے والے ڈاکٹروں میں سے بھی بعض نے اپنی خدمات پیش کی ہیں لیکن میں نے بتایا ہے کہ ہمارے پاس سب کے نام آجانے چاہئیں پھر ہم ان میں سے انتخاب کریں گے ان کی Qualification ( کو ایفیکیشن ) دیکھیں گے اور اسی طرح دوسرے کوائف