خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 5 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 5

خطبہ جمعہ ۲؍ جنوری ۱۹۷۰ء خطبات ناصر جلد سوم دوستوں نے بتایا کہ یہ ہمارے ساتھ آئے ہیں ہمارے علاقے کے مولوی ہیں میں نے ان سے ایک دومنٹ باتیں کیں مصافحہ کیا چلے گئے دوسری جماعت آگئی اور پھر میں کیا دیکھتا ہوں کہ ان میں سے پہلے ایک واپس آیا جو رضا کا روہاں کھڑے تھے انہوں نے اسے روکا لیکن یہ کہے کہ نہیں مجھے جانا ہے میری نظر پڑ گئی میں نے کہا کہ آنے دوا سے۔چنانچہ اس نے پھر مصافحہ کیا اور چلا گیا پھر دوسرا آ گیا پھر تیسرا آ گیا اور پھر چوتھے کو میں نے روکا اور کہا کہ تم ابھی مصافحہ کر کے گئے ہو پھر دوبارہ آ رہے ہو کہنے لگے ابھی سیری نہیں ہوئی۔پس اگر چہ انہوں نے بیعت تو نہیں کی لیکن بہر حال کوئی اثر قبول کیا جس کا اس رنگ میں انہوں نے اظہار کیا اب میری یا آپ کی کوشش سے یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ دل پر ایسا اثر ہو یہ تو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہوا پس اللہ تعالیٰ نے بڑے فضل کئے ہیں۔پھر انتظام کے لحاظ سے بڑے فضل ہوئے ایک تھوڑی سی خرابی یہ ہوئی تھی کہ ایک جگہ پر ہماری بس پر چھوٹے بچوں کو آلہ کار بنا کر بعض فتنہ پردازوں نے پتھراؤ کروایا تھا چنانچہ میں نے وہاں کے افسروں کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ یا تم انتظام کر دو یا ہم انتظام کر دیں گے کیونکہ عورتوں اور بچوں پر پتھر نہیں مارے جائیں گے جو مرد ہیں بڑے وہ تو ماریں کھانے کے بھی عادی ہیں اور پتھر کھانے کے بھی عادی ہیں اور گالیاں سننے کے بھی عادی ہیں لیکن اگر کسی احمق کو یہ خیال پیدا ہو کہ وہ ہماری عزت پر بھی ہاتھ ڈال سکتا ہے اور عورتوں کو ذلیل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے تو یہ نہیں ہوگا پس یا تم انتظام کر دو اگر نہیں کر سکتے تو ہمیں بتا دو ہم خود اپنا انتظام کر لیں گے لیکن انہوں نے کہا نہیں آپ فکر نہ کریں اب یہ بات نہیں ہوگی چنا نچہ پھر نہیں ہوئی اللہ تعالیٰ نے ہر لحاظ سے فضل کیا۔کھانے کا انتظام بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے خاصا اچھا رہا گواتنا اچھا ہو گیا ہے اس جلسہ کی وسعت اور عظمت کے لحاظ سے کہ اگر پندرہ منٹ بھی کسی کو دیر سے کھانا ملے تو وہ شکایت لکھ کر بھجوا دیتا ہے۔جب میں چھوٹا تھا پھر جوان تھا قادیان میں کام کیا کرتے تھے تو مجھے یاد ہے کہ قادیان میں کوئی ایسا جلسہ نہیں گذرا ہوگا یعنی وہاں آخری جلسے تک کہ ہم بارہ ساڑھے بارہ بجے سے پہلے کھانا کھلانے سے فارغ ہوئے ہوں لیکن اب یہ حال ہے کہ جب میں افسر جلسہ سالا نہ ہوتا تھا تو