خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 6 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 6

خطبات ناصر جلد سوم ۶ خطبہ جمعہ ۲؍ جنوری ۱۹۷۰ء ایک سال حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے پاس ساڑھے آٹھ بجے یہ شکایت چلی گئی کہ ساڑھے آٹھ بج چکے ہیں اور ہماری جماعت کو ابھی تک کھانا نہیں ملا۔پس یہ انتظام کی دن بدن جو اس میں Efficiency ( افیشنسی ) اور عمدگی اور خوبی پیدا ہورہی ہے یہ اس کا نتیجہ ہے اور ہماری یہ کوشش ہے کہ پہلے ساڑھے بارہ بجے بھی کھانے سے فارغ ہوتے تھے تو شکایت نہیں پیدا ہوتی تھی لوگ سمجھتے تھے کہ ہجوم زیادہ ہے (اس کے مقابلے میں تو شاید چوتھائی ہوتا ہو گا ان جلسوں میں ) بہر حال ہجوم بڑا ہے رضا کا رتھوڑے ہیں اتنا بڑا انتظام نہیں یہ باتیں ہو جایا کرتی ہیں پھر لوگوں نے یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح بھی فضل کرتا ہے کہ اتنے بڑے وسیع اجتماع کے انتظام بغیر خرچ کے ہو جائیں پھر آہستہ آہستہ انہوں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ اتنا فضل کرنے والا ہے اور یہ ان کی سستی ہے کہ ساڑھے آٹھ بج گئے ہیں اور ہمیں کھانا وقت پر نہیں ملا اور ممکن ہے کہ آئندہ سال یا اس سے آئندہ سال آٹھ بجے یہ شکایت آجائے کہ آٹھ بج گئے ہیں اور ہمیں ابھی تک کھانا نہیں ملا انتظام دن بدن بہتر ہوتا جا رہا ہے اس وقت میرے دل میں یہ احساس پیدا ہوا ہے یعنی یہ نہیں کہ مجھے کچھ بتایا گیا ہو یا میں نے خواب دیکھی ہو۔بس احساس ہے کہ آئندہ کھانا کھانے والوں کی تعداد میں دس ہزار کی زیادتی ہوگی اور ہمارے انتظام میں سب سے مشکل حصہ روٹی ہے سالن آسانی سے پک جاتا ہے کوئی دقت نہیں ہوتی ہمارے بھائی اتنے اچھے ہیں کہ جب گوشت کی دیگ ختم ہو جائے تو آدھ گھنٹہ میں دال پک جاتی ہے اور وہ لے لیتے ہیں اور کسی کو کوئی شکوہ نہیں پیدا ہوتا لیکن بہر حال روٹی تو ہونی چاہیے اور وسعت اتنی ہو چکی ہے کہ میرے خیال میں ا پونے دوسو کے قریب بلکہ اس سے زیادہ شاید سوا دو سو کے قریب تنور لگتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ چار پانچ سو نانبائی اپنے اڈوں سے اُٹھ کر تین چار دن کے لئے اپنا کرایہ خرچ کر کے یہاں آجائیں یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ورنہ ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ آتا کیوں ہے یہاں نانبائی کرا یہ وہ اپنا خرچ کرتا ہے مثلاً جو ملتان سے آیا ہے اس نے آنے جانے کا کرایہ اپنا خرچ کیا ہے اور تین یا چار دن اس نے یہاں کام کیا اور بمشکل تیس چالیس روپے اس نے کمائے لیکن اب وسعت اتنی ہو گئی ہے کہ شاید ہمارے ملک میں اس طرح اُٹھنے والے نانبائی اتنے میسر ہی نہ آسکیں۔