خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 4
خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۲ جنوری ۱۹۷۰ء ہے اور وہ دماغ کے کونے کونے کو روشن کر جاتا ہے اور ایک مضمون ذہن میں آجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ کو ہمارے پہلے جلسوں سے بھی بہت بابرکت کیا اور پہلے جلسوں سے زیادہ با برکت ہی ہونا چاہیے تھا اور نہ تو ہمارے دل ڈر جاتے اور ہم بڑے پریشان ہو جاتے کہ ہمارا قدم اب آگے کی طرف نہیں ہے، ٹھہر گیا ہے یا پیچھے کی طرف ہے۔یہ فکر بھی دماغ کو لگی رہتی ہے جس پر ذمہ واری ڈالی جائے کہ جماعت کا قدم ہمیشہ آگے ہی ہو۔اگر چه جلسہ سالانہ کے لنگروں سے کھانے والوں کی تعداد میں تو صرف ڈیڑھ ہزار نفوس کی زیادتی ہوئی ہے لیکن جس نگاہ نے جلسہ گاہ اور جمعہ والے دن اور دوسری نمازوں کے وقت ہجوم دیکھا اور ان کمزوروں کو بھی دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں جلسہ گاہ میں نہیں تھے راستے میں مجھے ملے وہ وقت پر نہیں پہنچ سکے وہ یقیناً پچھلے سال سے بہت زیادہ تھے۔پھر وہ دوست جو ہماری جماعت سے تعلق نہیں رکھتے بڑی کثرت سے آئے تھے عام اندازہ یہ ہے کہ جلسہ میں کم از کم آٹھ دس ہزار آدمی ایسے ہوں گے جن کا ہماری جماعت کے ساتھ تعلق نہیں پھر ان میں اس دفعہ نمایاں چیز یہ تھی کہ جو لوگ اپنے اپنے علاقے میں مولوی کہلاتے ہیں وہ بھی اپنی پوری ہیئت اور پوری ذہنیت کے ساتھ بڑی کثرت سے آئے اور ان میں سے بہتوں نے جلسہ پر ہی بیعت کر لی اور بیعت کے وقت بعض کو میں نے کہا بھی کہ اگر دُنیوی آرام کے لئے جماعت میں شامل ہونا چاہتے ہو تو وہ یہاں نہیں ملے گا یہاں تو گالیاں کھانی پڑتی ہیں ماریں کھانی پڑتی ہیں دُکھ اُٹھانے پڑتے ہیں خدا کے لئے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔یہ باتیں پہلے سوچ کر جماعت میں داخل ہوں۔ایک مولوی صاحب جن کے ساتھ میں نے بڑے نمایاں طور پر اور کھل کر یہ بات کی تھی وہ کہنے لگے کہ ”ہن دیکھیا جائے گا جو ہوئے گا“ بڑا پختہ تھا بہت سوں نے بیعت نہیں بھی کی لیکن اُن پر اثر یہ تھا بات تو چھوٹی سی ہے لیکن مجھے اللہ تعالیٰ کا فضل دیکھ کر اتنا لطف آیا اس چھوٹی سی بات میں کہ میں اس کو بیان کر دیتا ہوں۔چار غیر احمدی مولوی اکٹھے ایک دوست کے ساتھ آئے تھے غالباً ایک دوسرے کا سہارا لے رہے ہوں گے کہ ہم میں سے کوئی پھسل نہ جائے بہر حال وہ عام ملاقاتوں میں آئے اور