خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 155 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 155

خطبات ناصر جلد سوم ۱۵۵ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء کسی کو غلبہ حاصل نہیں لیکن اس کے علاوہ ” المُلْكُ لِلهِ الْقُدْرَةُ لِلَّهِ الْعِزَّةُ لِلَّهِ “ کو اس نے کثرت سے لکھوایا یہ بڑی لمبی تفصیل ہے اس وقت میں اس تفصیل میں نہیں جاؤں گا اور جب یہ حل اللہ تعالیٰ کی حمد کے کلمات سے اس طرح حسین بن گیا تب اس نے وہاں رہائش رکھی چنانچہ ہمارے یہ ابرار مبشر ( اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے اور استقامت عطا کرے ) یہ وہ لوگ ہیں جنہیں علم ہے کہ غلبہ اور اقتدار اور قدرت اور عزت سب اللہ کی ہے اور حقیقی معنی میں اسی سے ملتی ہے۔بے نفس ہو کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے اور انتہائی پیار کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کی طرف رجوع کرتا ہے پھر وہ غریب جنہیں پیٹ بھر کر شاید کھانا بھی نہ ملتا ہو ، خدا کی خاطر غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔سات ہزار میل اپنے رشتہ داروں سے دور لیکن ایسی زندگی کہ مِنْ حَبْلِ الوريد “ سے بھی جو زیادہ قریب ہے اس کا احساس رکھتے ہیں اور جو دوریاں ہیں وہ سب بھول چکے ہیں رشتہ داروں سے دوری ، ملک سے دوری، اپنے معاشرہ کے حالات سے دوری، ہزار قسم کی دوریاں ہیں جن کا انہیں سامنا ہے انہوں نے کسی کی پرواہ نہیں کی جب انہوں نے خدا کے لئے بعد کی قربانی بھی دی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں قرب سے نوازا یہ اس کی شان ہے لیکن اگر ایک شخص بھی ایسا ہو جیسا کہ میں نے مثالیں دی ہیں تو جماعت کی بدنامی کا موجب، ہماری رسوائی کا ووو باعث اور بڑی قابل شرم بات ہے۔جامعہ احمدیہ میں بے نفس زندگی گزارنے کا سبق دینا ضروری ہے یہی اسلام کی روح ہے اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ انسان اپنے وجود کو بکرے کی طرح اللہ تعالیٰ کے حضور رکھ دے کہ چھری پھیرے جس طرح چاہے جب تک یہ روح نہیں پیدا ہوتی ہمارا مبشر مبشر نہیں اگر محض چند دلائل سکھا کر ہم نے وہاں تبلیغ کرنی ہو تو بہت سے عیسائی بھی تیار ہو جائیں گے کہ چند دلائل سکھا دو ہم تمہاری تبلیغ کرتے ہیں جو بھوکا مرتا ہے وہ تنخواہ کے ساتھ یہ کام کرنا شروع کر دے گا لیکن ہمیں ایسے مبلغ کی ضرورت نہیں ہمیں تو اس مبلغ کی ضرورت ہے جس کا نفس باقی نہ رہے اور اللہ تعالیٰ سے قدرت کو پانے والا اور عزت کو پانے والا اور اثر ورسوخ کو پانے والا ہو غلبہ ہو اس کا لیکن وہ غلبہ وہ احترام اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہو۔غلبہ تو یہ ہے کہ جو