خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 156 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 156

خطبات ناصر جلد سوم ܪܩܙ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء Head of the states (ہیڈ آف دی سٹیٹس ( ہیں وہ بھی بڑی قدر کی نگاہ سے ان لوگوں کو دیکھتے ہیں۔ان بے نفس، اللہ کے پیارے بندوں کے کاموں کا نتیجہ تھا کہ نائیجیریا کے ہیڈ آف دی سٹیٹ کو جب میں ملنے گیا تو نو جوان جرنیل جس نے امریکہ کے مقابلہ میں سول وار (civil war ) جیتی تھی ابھی ابھی میرے جانے سے کچھ عرصہ پہلے جیتی تھی بظاہر دنیوی لحاظ سے اس کو بڑا مغرور ہونا چاہیے تھا لیکن میں جو اس کے لئے بالکل انجان تھا میں مسلمان تھا اور وہ عیسائی، اس کے باوجود اس کے ذہن پر ہمارے کام کا اتنا اثر تھا کہ وہ مجھے کہنے لگا کہ اس ملک کی ترقی کے جو منصوبے ہیں اور جو کوششیں ہیں ان میں ہم اور آپ برابر کے شریک ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے کاموں کی اس سے بڑھ کر اور کوئی تعریف نہیں ہوسکتی ایک غیر ملک کے سر براہ کو ان حالات میں کہ امریکہ کو اس نے شکست دی تھی اور اسے جائز فخر تھا مجھے کہنے لگا کہ ان غیر ملکی حکومتوں اور غیر ملکی عیسائی مشنز نے اپنا پورا زور لگایا کہ ہمارے ملک کو تباہ کر دیں اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ہمیں بچا لیا۔یہ اس کا فقرہ تھا اس نے عیسائی مشن پر تنقید کی اور ہمارے متعلق یہ کہا کہ ہم اور آپ ملک کی Progress ( پروگریس ) میں ، ملک کی ترقی کی جدو جہد اور کوشش میں Partner ( پارٹنر ) ہیں برابر کے شریک ہیں۔یہ تاثر اس قسم کے دماغوں پر محض اس وجہ سے ہے کہ ہمارے مبلغوں کی بڑی بھاری اکثریت کا اور Missions (مشنز ) کے انچارج جو ہیں ان کا نفس باقی نہیں رہا انہوں نے سب کچھ اللہ کے حضور پیش کر دیا اور پھر سب کچھ اس سے وصول بھی کر لیا غیر ملکی حاکم جب دوسرے ملک میں داخل ہوتا ہے تو سب کچھ لے جاتا ہے دیتا کچھ نہیں إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا (النمل: ۳۵) لیکن ہمارا پیارا رب ہمارا رب کریم جب سب کچھ لے لیتا ہے تو جتنا لیتا ہے اس کے مقابلہ میں ( دینے والے نے گوسب کچھ دیا مگر اتنی سی چیز تھی اللہ تعالیٰ کی عطا کے مقابلہ میں اور اس اتنی سی چیز کو لے کر ) اس نے اپنا سب کچھ اسے دے دیا اور اس نے کہا جو میرا ہے وہ سب کچھ تمہارا ہے اور پھر اپنی قدرت کے مظاہرے ان کی زندگی میں ان کو دکھاتا ہے۔ایک احمدی کی زبان تو اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے تھکنی نہیں چاہیے ہر وقت زبان پر حمد رہنی چاہیے ہر احمدی کو بحیثیت احمدی اجتماعی طور پر بھی اور جماعتی