خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 137
خطبات ناصر جلد سوم ۱۳۷ خطبہ جمعہ ۱۲/جون ۱۹۷۰ء جتنا میرا دل کرتا ہے کہوں گا ، پانچ دس منٹ اور بولوں گا انشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ کے فضل ہر رنگ میں ظاہر ہوئے ایک اور مثال دیتا ہوں ہم سیرالیون میں اترے تو اللہ تعالیٰ کے پیار کا یہ جلوہ نظر آیا کہ جماعت کے علم کے بغیر ریڈیو والوں نے یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ لاج تک پہنچنے تک آنکھوں دیکھا حال براڈ کاسٹ کریں گے ( ہمیں لاج تک جہاں ہم نے رہائش رکھنی تھی پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگا ) اس وقت ریڈیو پر رنگ کمینٹری جسے آنکھوں دیکھا حال کہتے ہیں شروع ہوئی اور وہ لگا تار ڈیڑھ گھنٹے تک یہ آنکھوں دیکھا حال براڈ کاسٹ کرتا رہا اب یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ہر آدمی نے یہ پروگرام سنا سارے لوگ پہچاننے لگ گئے تھے مگر اب وہ عزت اور عظمت کے جلوے کے ساتھ پہچانتے تھے فوجی افسر جب گزرتے تھے تو وہ با قاعدہ سلوٹ کرتے تھے میں نے سوچا کہ اس میں میری ذاتی کیا عزت ہے اور نہ مجھے اس کی خواہش اور نہ ضرورت۔میجر جنرل یا کمانڈر انچیف مجھے سلام کرے تو اس میں ذاتی طور پر کیا عزت، یہ تو اس خدا کی عزت کا اظہار ہے جس نے اس اکیلے (مہدی معہود علیہ السلام ) کو کہا تھا میں تیرے ساتھ ہوں تو دنیا کی پرواہ نہ کر اور پھر اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ واقعی مسیح موعود اور مہدی مہود کے ساتھ تھا، دنیا کی قطعاً پرواہ نہیں کی بے خوف ہوکر بولے بھی تقریریں بھی کیں باتیں بھی کیں اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ ان عزتوں کو قبول کیا ورنہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزتیں چاہئیں ، دنیا کی عزتیں ہیں کیا چیز ؟ ایک عارف انسان کی نظر میں دنیا کی عزتوں کی تو ایک ذرہ کے برابر بھی حیثیت نہیں لیکن خدا تعالیٰ کی شان کا مظاہرہ تھا اس کی قدرت اور پیار کے جلوے نظر کے سامنے تھے عیسائی ہمیں دیکھ کر ناچ رہے ہیں مسلمان جو ہیں (میں نام نہیں لوں گا ) ان کی اور ہی کیفیت تھی وہ اپنی مشکلات بیان کر کے دعا کی درخواست کرتے وقت اچھے خاصے پڑھے لکھے ہونے کے باوجود زار و قطار رو بھی رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنی درخواست بھی پیش کر رہے ہیں یہ بھی نظارے ہم نے دیکھے بہتوں کے لئے دعائیں کیں اور بعض وہیں پوری بھی ہوگئیں وہاں ایک بہن ملیں اس وقت مجھے یاد نہیں آرہا غالباً بو میں تھیں منصورہ بیگم سے جب ملاقات کے لئے آتی تھی چھٹی رہتی تھی اس کا قصہ یہ تھا کہ پورے ۳۹ سال ان کی شادی کو ہو گئے تھے اور کوئی بچہ نہیں تھا