خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 138
خطبات ناصر جلد سوم ۱۳۸ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء اس وقت صحیح یاد نہیں منصورہ بیگم کہتی ہیں کوئی بچہ نہیں تھا میرا خیال ہے کہ کوئی لڑکا نہیں تھا) بہر حال جو بھی تھا ۳۹ سال ہو گئے تھے شادی ہوئے مگر لڑ کا کوئی نہ تھا یا اس کا بچہ ہی کوئی نہ تھا اور پھر اس نے خلافت ثالثہ کے شروع زمانہ میں ( پہلے وہ سستی کرتی تھی ورنہ یہ نعمت شاید اسے بہت پہلے مل جاتی ) لکھنا شروع کیا اور شادی کے ۴۰ سال بعد اللہ تعالیٰ نے اسے لڑکا عطا کیا چنانچہ وہ کوئی ۳ سال کے قریب کا بچہ تھا وہ اسے لے کر آتی تھی اور مزید دعا کے لئے کہتی تھی شادی کے ۴۰ سال کے بعد جبکہ اس کی عمر ۵۰، ۶۰ سال کے قریب تھی بچہ پیدا ہوا اگر پندرہ سال کی عمر میں بیاہی گئی ہو تب بھی اس کی عمر ۵۵ سال کی ہوگی اور اگر ۱۲ سال میں بیاہی گئی ہو تو ۵۲ سال کی عمر کی ہوگی پورے ۴۰ سال کی محرومی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے اولا د عطا فر مائی اس قسم کے معجزے پہلوں نے بھی دیکھے اور اس وقت بھی اللہ تعالیٰ اپنی بے حدشان دکھا رہا ہے مسلمان ممالک میں بھی عیسائیت قابض ہے کیونکہ مسلمان پڑھے لکھے نہیں نوے فیصد عیسائی کام کرنے والے ہیں اور عیسائیت کے خلاف ہماری مہم اور عیسائیت کے خلاف میرے نعرے لیکن تعاون کا یہ حال کہ صبح سات بجے کی خبروں میں (یہاں بھی قریب سات بجے صبح خبریں آتی ہیں ) اس میں رات کے دس بجے اور صبح سات بجے کی خبر کے درمیان جو میرا پروگرام تھا اس کے متعلق خبر پھر سات کے بعد ایک بجے کے درمیان کے جو پروگرام تھے ان کی خبر پھر ایک بجے اور پانچ بجے کے درمیان جو واقعات ہوئے۔پانچ بجے کی خبروں میں ان کے متعلق خبر اور پھر پانچ اور رات کے نو بجے کے درمیان واقعات ہوئے رات کے نو بجے کی خبروں میں ان کے متعلق خبر نشر ہوتی تھی یوں کہنا چاہیے کہ ایک نمائندہ قریباً ۲۴ گھنٹے ساتھ لگا رہتا تھا پھر آپس میں جو باتیں کر رہے ہیں ان کے ریکارڈ کرنے کے لئے مائیک سامنے آجاتا تھا۔بو میں جو فری ٹاؤن سے ۱۷۰ میل ہے ریڈیو کی ایک نمائندہ ہر وقت باہر بیٹھی رہتی تھی جوں ہی میں باہر نکلا اس نے ٹیپ ریکارڈ رآن کیا اور پاس آگئی اور پھر وہ نیوز بلیٹن سے پہلے خبریں بجھواتی تھی ایک دو فقرے نہیں بلکہ بعض دفعہ تو پندرہ منٹ کی خبروں میں پانچ پانچ منٹ تک ہمارے متعلق خبریں ہوتی تھیں کہ فلاں جگہ گئے یہ ہوا فلاں سے باتیں کیں مسجد کا بنیادی پتھر رکھا یا لڑکوں کو مخاطب کیا اور اس میں یہ یہ ان کو کہا علاوہ اس امید کے پیغام کے