خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 136 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 136

خطبات ناصر جلد سوم ۱۳۶ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء سے اٹھی تھی جس کا مقصد اللہ کے حکم اللہ کی توحید کو قائم کرنا اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جلال کو دنیا پر ظاہر کرنا تھا لیکن تھی وہ اکیلی آواز ، مگر دنیا نے اسے نہیں پہچانا اور ساری دنیا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ اس آواز کو خاموش کرنے کے لئے اکٹھی ہو گئی مگر ساری دنیا کی ساری طاقتیں اس آواز کو خاموش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔تمہارے منہ سے جو در و د نکل رہا ہے تمہارے چہروں پر جو محبت کی بشاشت ہے تم میں سے ہر ایک فرد دلیل ہے اس بات کی کہ وہ اکیلی آواز ایک بچے اور صادق کی آواز تھی جھوٹے کی آواز نہیں تھی اور جب میں یہ دیکھتا ہوں تو میں بھی بڑا خوش ہوں ، تم اپنی جگہ پر خوش ہو کہ تم نے مجھے دیکھا اور میں اپنی جگہ پر خوش کہ میں نے تمہیں دیکھا۔سات ہزار میل دور نہ کبھی تم وہاں گئے نہ دیکھا مگر اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے تمہارے دلوں کو بدل دیا اور تمہارے دلوں میں اس محبوب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو پیدا کر دیا وہ آواز جس کو خاموش کرنے کے لئے ساری دنیا کی طاقتیں مسلمان بھی عیسائی بھی ، ہندو بھی ، یہودی بھی اور بدھ بھی غرض ساری طاقتیں اکٹھی ہو گئی تھیں اور یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ اس آواز کو خاموش کر دیں گے مگر خدا نے کہا کہ یہ دنیا تو کیا اس قسم کی ہزاروں دنیا اور ہزاروں دنیا کی سب طاقتیں آجائیں تب بھی یہ آواز خاموش نہیں کی جاسکے گی کیونکہ یہ میری آواز ہے یہ اس بندے کی آواز نہیں اور تم دلیل ہو اس بات کی کہ وہ سچا تھا ورنہ یہاں نہ وہ جماعتیں پیدا ہوسکتیں جو ہوگئیں نہ ہی ان دلوں میں وہ محبت پیدا ہو سکتی جو پیدا ہوئی نہ میں اس پیار کو دیکھ سکتا جو تمہارے چہروں پر مجھے نظر آ رہا ہے پس وہ بھی خوش تھے اور میں بھی خوش تھا آپ بھی خوش ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا۔میں نے شروع میں یہ فقرہ کہا تھا کہ میں ان کے لئے محبت اور پیار اور ہمدردی اور غمخواری اور اسلامی مساوات کا پیغام لے کر گیا تھا اور آپ کے پاس جب آیا ہوں تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے منادی کی حیثیت سے واپس آیا ہوں اتنے فضل اتنے فضل کہ آپ ان کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔گرمی بھی بڑی ہے مجھے بھی لگ رہی ہے آپ کو بھی لگ رہی ہے اور شاید آپ میں سے چند میرے ساتھی ہوں گے جیسا کہ میری عادت ہے کہ میں جمعہ کی نماز سے پہلے کھانا نہیں کھایا کرتا اس لئے میں بغیر کھانا کھائے آیا ہوں پس بھوکا بھی ہوں اور گرمی کا بیمار بھی ہوں لیکن کہنے کو