خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 98
خطبات ناصر جلد سوم ۹۸ خطبہ جمعہ ۱۷ را پریل ۱۹۷۰ء شکوک وشبہات اور بے یقینی کے سیاہ بادل چھٹ گئے اور انسان ایک دفعہ پھر اپنے خالق کے قریب آ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے ذریعہ انسان نے نئی زندگی حاصل کر لی اور اس کی زندگی با مقصد ہوگئی اور اس نے جان لیا کہ اس کی زندگی کا حقیقی مقصد کیا ہے اور اسے کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال سے اس روشنی نے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی تھی چمکنا بند نہیں کر دیا حضور کا تو وصال ہو گیا لیکن وہ روشنی اپنی جگہ پر قائم ہے اور روحوں کو با قاعدہ اور مسلسل منور کر رہی ہے اور مردوں اور عورتوں کی ان کی حقیقی منزل کی طرف راہنمائی کررہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو روشنی اور بصارت کے بغیر نہیں چھوڑ دیا روشنی چمک رہی ہے اور اس کی شعاعیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلفاء کے ذریعہ اکناف عالم میں پہنچ رہی ہیں ان خلفاء کو چھوڑ کر نہ کہیں روشنی ہے نہ حقیقی راہنمائی۔درحقیقت خلیفہ کسی دنیاوی انجمن کا سر براہ نہیں ہوتا اس کا انتخاب خدا خود کرتا ہے اور وہ خدا کے ہاتھ میں ایک آلہ کی طرح ہوتا ہے اس کے ذریعہ آسمانی مقصد اور آسمانی سکیم کی دنیا میں نمائندگی ہوتی ہے یا درکھو احمدیت کوئی انسانوں کی از خود بنائی ہوئی کلب نہیں ہے یہ ایک جماعت ہے اور جماعت بھی ایسی جس کی اللہ تعالیٰ نے خود بنیا د رکھی ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس کی راہنمائی کرتا رہے گا اور اللہ تعالیٰ ہی حقیقتا تمام روشنی کا منبع ہے۔اس جماعت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی عظمت اور شان کو دوبارہ قائم کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے یہی جماعت انسانیت کی امیدوں کا مرجع اور اس کے درخشندہ مستقبل کی ضامن خلافت قدرت ثانیہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کی دوسری تجلی اگر چہ خلیفہ المہدی المعہو دتو نہیں ہوتا لیکن وہ المہدی المعمود کا جانشین ضرور ہوتا ہے اس کا آنا اس وقت ہوتا ہے جب اسیح الموعود والمہدی المعہو د کا وصال ہو جائے یہ بات تو واضح ہے کہ مہدی علیہ السلام جسمانی طور پر ہمیشہ تو اس دنیا میں نہیں رہ سکتے تھے لیکن خلافت رہ سکتی ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ قائم رہے گی در حقیقت خلافت اسلام کی ان برکات کے تسلسل کا نام ہے جو مہدی موعود دوبارہ دنیا میں لائے تھے۔