خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 99
خطبات ناصر جلد سوم ٩٩ خطبہ جمعہ ۱۷ را پریل ۱۹۷۰ء اب اللہ کی مشیت نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جانشینی کی بھاری ذمہ داریاں میرے کمزور کندھوں پر ڈالی جائیں جن لوگوں نے میری اطاعت کا عہد کیا ہے اور اسلام کی خدمت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے جلال اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و عظمت کے اظہار کے لئے کوشاں ہیں انہیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ کامیابی اور خدمت کرنے کی توفیق کے لئے ہم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں اگر انسانی امداد باہم پہنچائی جائے تو وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے شکر کے طور پر ہونی چاہیے کہ اس نے محض اپنے فضل سے اپنے دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور یہ مداللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے وصول کرنی چاہیے۔کیونکہ اس کی مرضی کے بغیر کوئی چیز بھی نہ کسی کام آسکتی ہے اور نہ کسی حقیقی مدد کا ذریعہ بن سکتی ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے اور ہمت عطا کرے کہ ہم ثابت قدمی سے اسی کے ہور ہیں اور غیر اللہ سے ہمارا کوئی تعلق نہ ہو ہم اس کے دین کی خاطر اور اس کی رضا کی حصول کی خاطر ہمیشہ ہر قربانی کرنے کے لئے تیار رہیں اور ہر قسم کے بتوں کو، دولت کے بت، طاقت کے بت ، لوگوں کی خوشنودی یا ان کی ناراضی کے بت، تعداد کی کثرت کے بت اور نسلی امتیاز کے بت پاش پاش کر دیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہو اور ہماری مدد اور نصرت فرمائے خدا کرے کہ اس کی رضا اور اس کی خوشنودی بتمام و کمال ظاہر ہو۔آمین يَا رَبِّ الْعَلَمِينَ۔روزنامه الفضل ربوه ۱۴ رمئی ۱۹۷۰ ء صفحه ۳، ۴) 谢谢您