خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 97
خطبات ناصر جلد سوم ۹۷ خطبہ جمعہ ۱۷ را پریل ۱۹۷۰ء فائدہ بخش تو ہیں اور ترقیات کا پہلا زینہ متصور ہوتے ہیں مگر اصل مدعا سے بہت دور ہیں۔۔۔۔۔۔امیدوں کا تمام مداوا اور انحصار ان رسمی علوم کی تحصیل پر ہر گز نہیں ہوسکتا اور اس آسمانی نور کے اترنے کی ضرورت ہے جو شکوک وشبہات کی آلائشوں کو دور کرتا اور ہوا و ہوس کی آگ کو بجھا تا اور خدا تعالیٰ کی سچی محبت اور سچے عشق اور سچی اطاعت کی طرف ہے۔اگر چہ تم اپنی دنیوی فکروں اور سوچوں میں بڑے زور سے اپنی دانش مندی اور متانت رائے کے مدعی ہو۔مگر تمہاری لیاقت تمہاری نکتہ رسی تمہاری دوراندیشی صرف دنیا کے کناروں تک ختم ہو جاتی ہے اور تم اپنی اس عقل کے ذریعہ سے اس دوسرے عالم کا ایک ذرہ سا گوشہ بھی نہیں دیکھ سکتے جس کی سکونت ابدی کے لئے تمہاری روحیں پیدا کی گئی ہیں۔66 سو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انسان آسمانی روشنی یعنی الہی نور کے بغیر نا بینا اور اندھا ہے اللہ تعالیٰ نے جو رحمن اور رحیم ہے انسان کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ انسانی خیالات کے جنگلوں میں بھٹکتا پھرے اس نے تمام زمانوں میں انبیاء کو مبعوث فرمایا تا کہ وہ حقیقی اور اصل مقصد کی طرف انسانوں کی راہنمائی کریں اس سلسلہ میں آخری راہنما حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے نوع انسان کی راہنمائی کے لئے جو احکام آپ کو عطا کئے گئے وہ قرآن مجید میں درج ہیں اور ان کا بہترین عملی نمونہ یا اُسوہ حسنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی حیات طیبہ ہے حضور کے بعد خلفاء راشدین کا دور آیا جو کہ آپ کے سچے جانشین تھے اور جن کے وجودوں میں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ روشنی پوری طرح منعکس تھی۔خلافت راشدہ کے دور ختم ہو جانے کے بعد مجدد دین انسانوں کی اس وقت تک راہنمائی کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت میرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام مسیح موعود اور مہدی معہود بن کر دنیا میں تشریف لے آئے آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز اور آپ کے عظیم روحانی فرزند تھے اور آپ کی بعثت ان متعدد پیشگوئیوں کے مطابق ہوئی جو قرآن مجید اور اس سے پہلی کتب مقدسہ میں درج ہیں اور جن کا احادیث نبوی میں بھی ذکر ہے آپ کی بعثت سے