خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 532 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 532

خطبات ناصر جلد سوم ۵۳۲ خطبہ جمعہ ۲۶ نومبر ۱۹۷۱ء ہمیں یہاں بنیادی طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ جب اور جس وقت اس قسم کے حالات پیدا ہوں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔جب اور جس وقت اس قسم کے حالات پیدا ہوں تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی غیر پر بھروسہ نہ کرنا اُس وقت دائیں بائیں دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اُس وقت سامنے دیکھنے کی ضرورت ہے۔یہ صراط مستقیم ہے جو خدا تعالیٰ کے قرب کی طرف لے جانے والا ہے اُس وقت یہ خیال نہیں کرنا کہ ہمارے پاس بندوقیں نہیں یا ہمارے پاس تو پہیں نہیں یا ہمارے پاس بحری بیڑہ نہیں ہے یا ہمارے پاس ہوائی جہاز نہیں ( اور ”نہیں“ سے مراد یہ نہیں کہ بالکل نہیں ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ دشمن کے مقابلے میں کم ہیں ) اُس وقت یہ یاد رکھو کہ اگر ساری دنیا کے ہوائی جہازوں کو جمع کر دیا جائے اور دنیا کے بحری بیڑے سمندر میں اکٹھے ہو جا ئیں اور ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بم نشانہ بنانے کے لئے تیار ہو جائیں اور ساری دنیا کے دوسرے ہتھیاروں کو بھی ایک محاذ پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنالیا جائے تب بھی وہ سارے کے سارے خدائے قادر و توانا کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔فتح تعداد کی وجہ سے یا سامانوں کے نتیجہ میں نہیں ہوتی وہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتی ہے۔دوسری جنگ عظیم کے شروع میں ہٹلر اور اس کے ساتھیوں کے پاس بے حد سامان تھا۔اتحادی اس سے لڑنے کے لئے تیار نہیں تھے لیکن خدا تعالیٰ پر تو انہوں نے بھروسہ نہیں کیا۔کوئی اور خوبی ہوگی جو ہمیں نظر نہیں آئی اللہ تعالیٰ کو نظر آئی۔ہٹلر سے شاید انسانیت کو اس سے زیادہ دکھ پہنچتا جو اس کے مخالفین کی فوجوں سے پہنچا ہے اس واسطے جو تھوڑا دکھ پہنچانے والا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے کا میاب کر دیا اور جو لوگ زیادہ دُکھ پہچانے والے بن سکتے تھے ، اُن کو نا کام کر دیا۔غرض یہ باتیں خدا کے علم میں ہیں۔ہم تو صرف اندازہ لگا سکتے ہیں۔ہم غیب کا علم نہیں رکھتے لیکن خدا تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے۔ہم کچھ اندازے لگا لیتے ہیں۔اصل علم تو خدا تعالیٰ کو ہے۔یہاں اُمت مسلمہ کا ذکر ہے اور اصل سوال یہاں اللہ کی ذات اور اُسے یاد رکھنا ہے اُس کی صفات پر ایمان لانا اور اس بات پر ایمان لانا کہ اُسے دھوکہ نہ دیا جائے کیونکہ وہ علیم دھوکہ میں نہیں آسکتا۔یہاں یہی کہا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مدد کی کیونکہ وہ بصیر ہے وہ جانتا ہے کہ تمہارے