خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 531 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 531

خطبات ناصر جلد سوم ۵۳۱ خطبہ جمعہ ۲۶ نومبر ۱۹۷۱ء کی قیادت میں مسلمانوں کو کریش (CRASH) کرنے کے لئے اور ان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی نیت سے وہاں جمع ہوا تھا۔مسلمانوں کے لئے علاوہ اس ابتلاء کے بعض اور ابتلاء بھی تھے مثلاً راشن یعنی غذا کی کمی تھی۔سردی غیر معمولی طور پر شدید تھی۔اُن کا لباس اس سردی کا مقابلہ کرنے کے لئے نا کافی تھا۔غرض اُس وقت حالات ایسے تھے کہ دنیا کی نگاہ یہی دیکھتی تھی کہ آج اسلام ختم اور مسلمان تباہ ہو جائیں گے۔آج (نعوذ باللہ ) محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نقصان پہنچا کر یہ سارا سلسلہ ختم کر دیا جائے گا۔لوگ باتیں بھی کرتے تھے۔فتنہ بھی پیدا کرتے تھے۔بددلی پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔جو ان کے بس میں تھا وہ کرتے تھے لیکن وہ مسلمان جس نے اپنے رب کی قدرتوں کے زندہ نظارے دیکھے تھے اور علی وجہ البصیرت اس کی صفات پر ایمان لاتا تھا اور اس کی صفات کی معرفت اور ان کا عرفان رکھتا تھا۔وہ ان باتوں میں نہیں آتا تھا۔اُسے معلوم تھا کہ ایسے حالات میں بھی قدرتوں والا خدا جس کے اندر کوئی کمزوری اور نقص نہیں ہے اور جسے اس کے وعدوں کو پورا کرنے سے عاجز نہیں بنایا جاسکتا، اُس نے جو وعدے کر رکھے ہیں وہ ضرور پورے ہوں گے اور اس نے وعدہ یہ کیا ہے کہ جب احزاب جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور دل ایسا معلوم ہوگا کہ چھلانگ لگا کر شاید منہ کے راستے جسم سے باہر نکلنے لگا ہے۔اُس وقت اور ان حالات میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ اور بشارت کو پورا کرے گا اور مومن کا میاب ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہی وعدہ ہے ( مگر شرط یہ ہے کہ آدمی حقیقی مومن ہو ) کہ پھر کوئی غیر طاقت اُس کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔جنگ احزاب کے ذکر کے قریباً وسط میں قرآن کریم نے اس آیہ کریمہ کو رکھا ہے۔لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب : ۲۲) دراصل ظاهری سامانوں کی کمی اور دنیوی لحاظ سے کمزوری کی انتہا کا نقشہ جنگ احزاب نے ہمارے سامنے کھینچ دیا ہے اور ایک مومن کے ایمان کے حسن کا نظارہ اس موقعہ پر بھی ہمارے سامنے آتا ہے۔اس کی تفصیل میں جیسا کہ میں نے بتایا ہے بعد میں جاؤں گا۔