خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 533
خطبہ جمعہ ۲۶ نومبر ۱۹۷۱ء خطبات ناصر جلد سوم ۵۳۳ عمل کیسے ہیں۔اگر تمہارے عمل ٹھیک ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی شریعت یعنی شریعت اسلامیہ کے مطابق ہوئے تو اس کے وعدے پورے ہوں گے۔پھر دنیا کی کوئی طاقت ان وعدوں کے پورا ہونے میں روک نہیں بن سکتی لیکن اگر انسان خود مرنا چاہے اور اس وقت کے منافقوں کی طرح خدا تعالیٰ کو چھوڑنا چاہے تو پھر خدا تعالیٰ پرشکوہ بے جا ہے قصور اپنا ہے۔اُس پر کیا الزام دھرا جا سکتا ہے۔پس آج ہمارے ملک کے حالات جنگ احزاب کے حالات سے ملتے جلتے ہیں۔گوان میں زیادہ شدت تھی اِن میں ابھی اتنی شدت نہیں پیدا ہوئی لیکن یہ حالات اُن سے بہت ملتے جلتے ہیں چنانچہ پاکستان کے ایک حصے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور دوسرے حصے کو بھی قریباً قریباً ایک حصے میں عملاً جنگ شروع ہو گئی ہے اور دوسرے کے متعلق آج ہی کی خبر ہے کہ بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی مظلومیت سے باز آجائے ورنہ ہم اپنے ظلم میں اور بھی زیادتی کریں گے۔اب جو مظلوم ہے وہ اپنی مظلومیت سے کیسے باز آ جائے؟ اس کو تو تم باز رکھ سکتے ہو۔تم اس پر ظلم کرنا چھوڑ دو تو وہ مظلوم نہیں رہے گا۔پاکستان تو اپنا دفاع کر رہا ہے۔پاکستان نے تو حملہ نہیں کیا۔پاکستان نے تمہارے ملک میں فساد پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔تم نے پاکستان میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تم نے فسادیوں کا ساتھ دے کر ایک وقت تک دنیا کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کی کوشش کی کہ باغی ہیں اور حق پر ہیں اور پاکستان نے ان بعض پاکستانیوں کے حقوق نہیں دیئے اس لئے وہ اپنے حقوق کے حصول کی خاطر لڑ رہے ہیں۔پھر آہستہ آہستہ فسادی کی عقل میں فتور آ جاتا ہے۔یہ جو غیر ملکوں کے اخبار اور بی بی سی اور دوسرے براڈ کاسٹنگ کرنے والے ذرائع ہیں وہ ان کی باتوں میں آگئے اور انہوں نے شور مچا دیا کہ پاکستانی حکومت اپنے شہریوں پر ظلم کر رہی ہے۔کہاں ظلم کر رہی ہے حکومت ؟ وہ ہمارے بھائی ہیں اور ہمیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں۔اُن پر ہم ظلم کیسے کر سکتے ہیں مگر تم نے جو فتنہ پیدا کیا ہے اور فساد پیدا کیا ہے اور تم نے ایک مختصر سے گروہ میں بغاوت کی ایک رو پیدا کی ہے اس کا ہم مقابلہ کریں گے کیونکہ دنیا کی کوئی عقل یا دنیا کا کوئی اخلاق یا دنیا کا کوئی قانون یاد نیا کی کوئی شریعت یہ نہیں کہتی کہ باغی جو مرضی کرتا