خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 454
خطبات ناصر جلد سوم ۴۵۴ خطبہ جمعہ ۲۵/ دسمبر ۱۹۷۰ء پس جہاں احمدی ووٹ جائے گا وہاں احمدی کی دعائیں بھی اسی راستے پر چل رہی ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کریں گی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسی ناممکن باتیں ممکن بنادی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے جو لوگ ہماری مخالفت کرتے رہے ناجائز طور پر ہمیں تنگ کرتے رہے ڈراتے دھمکاتے رہے ان کے متعلق میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ ان کو شکست ہو اور میں ان کی شکست کے لئے دعائیں بھی کرتا تھا چنا نچہ جب ان کے خلاف کھڑے ہونے والوں سے جماعتوں نے وعدہ بھی کر لیا لیکن جب میں کہوں تم زور لگاؤ کہ اس قسم کے کسی شخص کو کامیاب نہیں ہونا چاہیے تو دوست کہیں کہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا یہ تو بڑا مضبوط ہے یہ تو بڑے اثر ورسوخ والا ہے اس نے تو بڑے بڑے قاتل اور خونخوار قسم کے ایجنٹ رکھے ہوئے ہیں انہوں نے فلاں جگہ تو اعلان کر دیا ہے کہ جو انہیں ووٹ نہیں دے گا۔اسے وہ شوٹ کر دیں گے۔وغیرہ وغیرہ یہ باتیں صحیح تھیں یا غلط بہر حال لوگ مجھے آکر ایسی باتیں سناتے رہتے تھے لیکن ان کا پتہ ہی نہیں لگا کہاں گئے؟ اس واسطے کہ اصل کامیابی کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کسی کو ابتلا اور امتحان میں ڈالتا ہے اور اسے دنیوی کامیابی دے دیتا ہے یعنی دنیا کی ہر کامیابی اللہ تعالیٰ کا فضل اور برکت اور رحمت شمار نہیں ہو سکتی قرآن کریم نے اس کا ذکر فرمایا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بھی اس کا ذکر موجود ہے یعنی کبھی انعام اور اصطفاء کے طور پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا نزول ہوتا ہے کبھی ابتلاء کے طور پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا نزول ہوتا ہے۔پس جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے ہمیں بھی اللہ تعالیٰ آزماتا ہے لیکن اس میں بھی ہمارے لئے رحمت پوشیدہ ہوتی ہے البتہ جو انعام اصطفی کے طور پر یعنی اپنی محبت اور قرب کے اظہار کے طور پر وہ جماعت احمدیہ پر نازل کرتا اور ان سے پیار کرتا ہے اس کا تو شمار ہی کوئی نہیں ! اس لیے بہت الحَمدُ لِلهِ پڑھو اور اپنے رب کے حضور گرو اور اس سے کہو کہ ہم تیرے ناچیز بندے ہیں تیرے فضلوں کا شمار نہیں ہے ہماری زبانیں، ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ شکر ادا کرنا چاہے تو شکر ادا نہیں کر سکتا اور یہ دعا بھی کرو کہ اے اللہ ! تو نے اپنے بندوں کے لئے بہتری کے کچھ سامان پیدا کرنے شروع کئے ہیں وہ مظلوم اور محروم جو ہر طرف سے دھتکارے ہوئے اور ذلیل سمجھے جانے