خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 453
خطبات ناصر جلد سوم ۴۵۳ خطبہ جمعہ ۲۵/ دسمبر ۱۹۷۰ء میں سات ہزار احمدی ووٹ ہے اور میں نے اندازہ لگایا ہے کہ ۳۰،۲۵ ہزار ووٹ آپ کے ہیں جدھر یہ سات ہزار جائے گا ادھر ہی یہ ۲۵ ،۳۰ ہزار ووٹ بھی ساتھ جائے گا اس لئے میں آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ میری مدد کریں۔میں بڑا خوش ہوا۔میں نے اس سے کہا میں اس لئے خوش ہوں کہ جو چیز بہت سے لوگوں کے سامنے نہیں آئی اور وہ سوچتے نہیں وہ تمہارے دماغ میں آگئی ہے خیر اللہ تعالیٰ نے وہاں کی جماعت کو اس کے لئے کام کرنے کی توفیق دی اور وہ انتخاب میں کامیاب ہو گیا حالانکہ اس کا بڑا سخت مقابلہ تھا ایک بڑا ہی ظالم قسم کا آدمی اس کے خلاف کھڑا تھا جو لوگوں کے حقوق مارنے والا تھا اور اس نے بڑی دھمکیاں دیں (احمدیوں کو نہیں، احمدی تو دھمکی کی پرواہ ہی نہیں کرتے ) اور دوسرے ووٹروں کو اس نے بہت ستایا ، بہت کچھ کیا، لیکن کامیاب نہیں ہو سکا غرض احمدیوں کے شامل ہونے سے اللہ تعالیٰ کا فضل بھی شامل ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو طبیب اپنے مریض کے لئے دعا نہیں کرتا وہ بڑا ظالم ہے تو جو ووٹر احمدی ہے جس کے حق میں اس نے ووٹ ڈالنا ہے اگر وہ اس کے حق میں دعا نہیں کر رہا تو وہ بھی ظالم ہے کیونکہ اصل چیز تو دعا ہے اس کے فضل کے بغیر تو کچھ نہیں ہوسکتا۔کئی نا سمجھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن ک دعا کا فلفہ ہی نہیں آتا ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ میری مدد کریں میرے آپ کے ساتھ بہت تعلقات ہیں میں نے کہا بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ٹھیک ہے تم نے جماعت سے تعلقات بھی رکھے ہوں گے لیکن اب ہم وعدہ کر چکے ہیں تم دیر بعد آئے ہو ورنہ اگر تم پہلے آجاتے تو تمہاری مدد کر دیتے وہ کہنے لگا کہ اچھا اگر اس سے مدد کا وعدہ کر دیا ہے تو میرے لئے دعا کریں میں نے کہا دعا اور عمل اکٹھے چلیں گے آپس میں ان کا تصادم کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن چونکہ وہ دعا کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتے اسلام کی روح سے واقف نہیں ہوتے اس لئے اس قسم کے خیالات دماغ میں آتے ہیں اور ان کا اظہار کر جاتے ہیں۔