خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 455
خطبات ناصر جلد سوم ۴۵۵ خطبہ جمعہ ۲۵/ دسمبر ۱۹۷۰ء والے اور حقیر کہلانے والے جنہیں لوگ عوام کہتے ہیں یہ تیرے بندے اب اپنی عزت کے راستے پر قدم اٹھانے لگ گئے ہیں تو ایسی تدبیر کر آسمانوں سے اور ایسا حکم نازل کر کہ یہ ا پنی منزل مقصود کو پہنچ جائیں اور وہ حسین معاشرہ جو اسلام کا معاشرہ ہے، جو دنیا کی کسی اور قوم کے دماغ میں بھی نہیں آسکتا تھا وہ معاشرہ قائم ہو جائے اور ہر مظلوم ظلم سے نجات اور چھٹکارا حاصل کرے اور ہر محروم کو خواہ وہ مانگے یا مانگنے سے بھی محروم ہو اس کے حقوق اسے مل جائیں، اقتصادی بھی اور عزت نفس کے لحاظ سے بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آپ میں سے جو امیر ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دولت دی ہے وہ اس چیز کو نہ بھولیں۔آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص تمہارے پاس آتا ہے تم اس کی عزت اور احترام کرو، خواہ وہ بہترین لباس میں ملبوس ہوکر تمہارے پاس آئے یا چیتھڑوں میں لپٹا ہوا تمہارے پاس آئے کیونکہ وہ ایک انسان ہے اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس کی عزت ہے۔تمہاری نگاہ میں وہ چیز نہیں ہونی چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نہیں ہے تمہاری نگاہ میں بھی وہی چیز ہونی چاہیے جو تمہارے پیدا کرنے والے رب کی نگاہ میں ہے۔اس لئے ہر ایک کے ساتھ پیار اور محبت اور عزت اور احترام کے ساتھ ملو اور کوئی جتنا کسی کا بھلا کر سکتا ہے اتنا بھلا کرے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا‘ (البقرة: ۲۸۷) اس کے بعد پھر گرفت نہیں ہے لیکن اگر آپ ایک دھیلے کی بھلائی کر سکتے ہیں اور وہ نہیں کرتے (اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے) تو خدا تعالیٰ کا شدید غضب صرف ایک دھیلے کی بھلائی نہ کرنے کی وجہ سے نازل ہوسکتا ہے۔پس لرزاں وتر ساں اور خوف کے ساتھ اس جذبہ کے ساتھ اور محبتِ ذاتیہ کے ساتھ (کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہمیں مل جائے ) جماعت اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا کرے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرے۔اب اسلام کی نو بہار کا زمانہ آ گیا ہے ( اس پر تو میں انشاء اللہ جلسہ سالانہ کی کسی تقریر میں زیادہ تفصیل سے روشنی ڈالوں گا ) اب وقت آگیا ہے کہ دنیا اسلام کی نو بہار دیکھے اور جس طرح بنی نوع انسان نے اس رحمتہ اللعالمین کی رحمت سے پہلے زمانے میں، اسلام کی نشاۃ اولیٰ میں فائدہ اٹھایا اور حصہ لیا تھا اسی طرح اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بعثت کے وقت جو احمدیت کے روپ میں دنیا دیکھ رہی ہے، ساری دنیا ایک ہوکر اسلام