خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 391 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 391

خطبات ناصر جلد سوم ۳۹۱ خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۷۰ء مثلاً افریقہ ہے یہ بات بھی ضمنا ہے خوشخبری ہے۔اس لئے آپ کو سنا دیتا ہوں جو ہماری آگے بڑھو کی سکیم نصرت جہاں ریز روفنڈ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اس کے ماتحت ہمارے پہلے ڈاکٹر نے غانا میں جا کر کام شروع کر دیا ہے۔الحمد للہ۔اور زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ جس جگہ انہوں نے کام شروع کیا ہے وہاں ان کو رہائش کے لئے مکان اور کلینک کے لئے اتنا بڑا مکان جسے حکومت نے بھی مان لیا ہے کہ یہ ٹھیک ہے وہ ایک ایسے پیرا ماؤنٹ چیف نے عطا کیا ہے۔(ہم اس کے بڑے ممنون ہیں ) جو ابھی احمدی نہیں ہے۔اس قسم کے حالات ہیں وہ قومیں ہم سے تعاون کر رہی ہیں کئی اور قو میں ہیں جو ہم سے حسد کر رہی ہیں ہمیں حسد کی کوئی پرواہ نہیں ہے جو قو میں ہم سے تعاون کر رہی ہیں وہ اس بات کی اہل ہیں ان کا یہ حق ہے کہ ہم ان کی خدمت کے لئے وہ سب کچھ کریں جو ہمارے بس میں ہے اس طرح وہاں بہت سارے وعدہ کئے گئے ہیں عمل بھی شروع ہو گیا ہے پیرا ماؤنٹ چیف نے بہت بڑا ہال کلینک کھولنے کے لئے دیدیا ہے دراصل غانا کی حکومت کچھ نخرے دکھا رہی ہے کہ پہلے ان سے کلینک کے لئے مکان کی Approval ( اپروول ) لو اور یہ کرو اور وہ کرو۔مگر یہ ہال اتنا بڑا تھا کہ حکومت غانا کو کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوا اور ڈاکٹر بھی جارہے ہیں۔غرض یہ بات ضمنا بھی ہے اور اس کا تعلق بھی ہے یہ جو اگلی نسل ہمارے اندر شامل ہورہی ہے اور بڑی تعداد میں شامل ہو رہی ہے اس کی تربیت کی رفتار پہلے کی نسبت زیادہ ہونی چاہیے تا کہ یہ اپنی ذمہ داریاں نباہنے کے زیادہ قابل ہو جائیں کیونکہ جب کام بڑھ گیا تو بہر حال ہمیں ادھر ادھر سے اور زیادہ آدمی لینے پڑیں گے اور اس وقت کام بڑھنے کا یہ حال ہے۔نائیجیریا نے ہمیں ( مجھے صحیح یاد نہیں ) ۸ یا ۱۰ آدمیوں کا کوٹا دے رکھا تھا۔اس سے زیادہ وہاں ہمارے آدمی نہیں جاسکے کیونکہ حکومت نے تعداد مقرر کی ہوئی ہے اب جب میں وہاں گیا ان سے باتیں کیں تو وہاں کی جماعت کو بھی جوش آیا اور ان کا ایک وفد وہاں کے وزیر سے ملا اور مطالبہ کیا کہ جس طرح حکومت نے کیتھولکس کو ۱۵۰ ڈاکٹروں اور پادریوں کو اجازت دے رکھی ہے اسی طرح ہمیں بھی اجازت دو چنانچہ انہیں بھی ۱۵۰ کی اجازت ملنے کی امید ہے، دوست دعا کریں ۱۵۰