خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 392 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 392

خطبات ناصر جلد سوم ۳۹۲ خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۷۰ء آدمیوں کی اجازت مل جائے اس وقت وہاں دس آدمی ہیں ۱۴۰ آدمی جن کی اجازت ملے گی وہ وہاں موجود نہیں اور اگر آپ نے وہاں آدمی نہ بھیجے تو بڑی سبکی ہوگی وہ کہیں گے کہ تم بڑے طمطراق کے ساتھ آگئے تھے کہ ہمیں دس کی بجائے ۱۵۰ کی اجازت دو اور تم آدمی کوئی نہیں بھیج رہے اور اگر ہم آدمی بھیج دیں تو بڑی ذمہ داری ہے مالی لحاظ سے بھی اور کئی دوسرے لحاظ سے بھی مثلاً رضا کا کبھی آنے چاہئیں پیسہ بھی وہاں خرچ ہوگا۔پس آپ دعا بھی کریں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے پیسے بھی دے گا اور رضا کار بھی دے گا لیکن اپنے تعلق کو اپنے رب سے قطع نہ کریں کیونکہ جب تک یہ تعلق قائم ہے ہمیں فکر نہیں ہم میں بعض کمزور ہیں جو چست ہیں وہ ان کو تیز کر دیں گے۔اس وقت تو ضرورت کچھ اس قسم کی ہے کہ جس طرح روم اور ایران کے فتنے کو اور جوان کے منصوبے تھے اسلام کو مٹانے کے ان میں ان کو نا کام کرنے کے لئے بے شمار جرنیلوں کی ضرورت پڑی تھی (بے شمار تو ہمارا محاورہ ہے ) ہمیں وہ کہیں نظر ہی نہیں آرہے تھے ضرورت سے پہلے نمایاں طور پر ان کا نام ہی نہیں لکھا گیا لیکن ضرورت پڑنے پر وہ اس طرح ابھرے ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔رومیوں اور ایرانیوں کو سینکڑوں سال سے فنونِ جنگ کی مہارت حاصل تھی اور پھر یہ قو میں بزدل بھی نہیں تھیں کہ مسلمان اٹھے اور ان کو شکست دیدی۔یہ بڑے بہادر تھے اتنے بہادر تھے کہ ایران میں یہ دستور تھا کہ کئی سپاہی زنجیروں سے اپنے آپ کو جکڑ لیتے تھے اور یہ زنجیریں غالباً چار قسم کی ہوتی تھیں تین آدمیوں کو آپس میں باندھنے کی ، پانچ آدمیوں کو آپس میں باندھنے کی ، سات آدمیوں کو آپس میں باندھنے کی اور دس آدمیوں کو آپس میں باندھنے کی۔اب دس سپاہی کھڑے ہوتے ہیں تلواریں اور نیزے لے لے کر اور ان کے پاؤں ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں میں بندھے ہوتے ہیں اگر وہاں ان میں سے ایک مرجائے تو وہ بوجھ ہے باقی دو پر یا نو پر۔اور دو ایک نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں زنجیروں میں بندھ کر مسلمانوں کے خلاف کھڑے ہو جاتے تھے اور بڑے مالدار بھی تھے اور پوری طرح مسلح ہوتے تھے۔اس زمانہ میں ہندی فولاد بڑا مشہور تھا اس کی انہوں نے زرہیں پہنی ہوئی تھیں خود پہنی ہوئی تھیں۔ان کی تلواریں اچھی ، زرہ اور خو دا چھے، نیزے اچھے ، جرنیل اچھے، کئی سالوں کی ان کی