خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 390 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 390

خطبات ناصر جلد سوم ۳۹۰ خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۷۰ء اور اندر سے بھی باہر پتھر نہیں جانا چاہیے تھا لیکن جنہوں نے ہماری خاطر یہ قدم اٹھایا ہے ہم ان کے خلاف یہ قدم نہیں اٹھا ئیں گے وہ احمدی نہیں تھے غیر احمدی تھے وہ تو ہمارے ہیں چاہے احمدی ہیں یا نہیں ہماری خاطر انہیں غیرت آئی ہماری خاطر انہیں جوش آیا پس ہمیں فکر یہ رہتا ہے کہ کام کوئی کرے گا اور نام ہمارا بد نام ہوگا ہمارا موقف پیار کا موقف ہے ہم ان کو بد نام نہیں کریں گے جو ہماری خاطر غلطی کر رہے ہوں گے اپنے سر لے لیں گے۔غرض یہ نوجوان طبقہ اس وقت احمدیت کی طرف زیادہ توجہ کر رہا ہے اور ہم پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے پڑھے لکھے طالب علم ہیں لیکن اکثر مظلوم ہیں ان سے بھی کوئی پیار نہیں کرتا ایک دفعہ بہت سے غیر احمدی طالب علم مجھ سے ملنے آئے ان میں کئی ایک لیڈ رٹائپ کے تھے جب میں اٹھا تو ایک لیڈر طالب علم کے منہ سے ایک ایسا فقرہ نکلا جسے سن کر مجھے خوشی بھی ہوئی لیکن مجھے دکھ بھی بہت ہوا جب ہم ڈیڑھ دو گھنٹے کی ملاقات کے بعد فارغ ہوئے اس کے بعد مصافحہ کرنا تھا وہ میرے دائیں طرف بیٹھا ہوا تھا پہلے اسی سے میں نے مصافحہ کرنا تھا۔وہ آہستہ سے مجھے کہنے لگا کہ آج پہلی دفعہ کسی شریف آدمی نے ہم سے شرافت سے باتیں کی ہیں۔مجھے یہ سن کر خوشی تو ہوئی کہ اس طرح جماعت کا اس پر اثر ہوا لیکن مجھے انتہائی دکھ ہوا کہ وہ نسل جس کے اوپر قوم کی ساری ذمہ داری پڑنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل دی ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں فراست دی ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں جذبہ دیا ہے وہ آگے نکلنے والی نسل ہے میں یہ نہیں کہتا کہ ان سے کبھی کسی نے شرافت سے بات کی ہے یا نہیں میں یہ ضرور کہوں گا کہ ان کے دل میں یہ احساس ہے کہ ہم سے کسی نے کبھی شرافت سے بات نہیں کی اور اصل تو احساس ہوتا ہے پس جہاں مجھے تھوڑی بہت خوشی ہوئی وہاں مجھے بڑی تکلیف بھی ہوئی پس یہ پیارے بچے اب آرہے ہیں اور آئیں گے ان کی تربیت انصار اللہ کا کام ہے یہ کام میں نے خدام الاحمدیہ کے سپر د نہیں کیا اس طرف توجہ دینی چاہیے دفتر سوم کے چندے کی فی کس اوسط - / ۱۳ سے۔/ ۱۵ تک پہنچ گئی ہے یہ خوشکن ہے لیکن ۲۰۰ تک ان کو پہنچنا چاہیے اور اس سال پہنچنا چاہیے انصار اللہ ہر جگہ جائزہ لیں اور اپنی تھوڑی سی سستیاں ترک کر دیں تو زیادہ اچھا ہے حالات بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں۔