خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 283 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 283

خطبات ناصر جلد سوم ۲۸۳ خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء ہے جب انکار کرنا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارا مجھ پر کیا حق ہے جاؤ دوڑ جاؤ مگر جب دینا ہوتا ہے تو کہتا ہے میرے پیارے بندو! ادھر آؤ میں تمہیں اپنی گود میں بٹھاؤں اور اپنی رضا کی جنتوں میں لے جاؤں وہ مالک ہے چاہے تو ساری دنیا کو بخش دے اور چاہے تو ساری دنیا کو نہ بخشے کوئی اسے کچھ کہنے والا نہیں اس خدا کو ہم مانتے ہیں محض اللہ کے لفظ کو نہیں بلکہ اس کی تمام صفات کے ساتھ مانتے ہیں جن میں سے بنیادی صفات جو ہیں وہ یہ چار صفات ہیں جو سورہ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں یعنی ربّ ، رحمان، رحیم اور مالک یوم الدین۔پس ایمان باللہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کہہ دیا کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ایمان باللہ کے بعد تو دوسری کوئی چیز ہی نہیں رہتی۔ایمان باللہ کے بعد رشوت پر انحصار، ایمان باللہ کے بعد یہ غبن اور دوسری بدعنوانیوں کا سہارا لینا یہ باتیں ایمان کے ساتھ کیسے اکٹھی ہوسکتی ہیں۔ایمان باللہ کے ساتھ کوئی چیز نہیں رہتی صرف اللہ ہی اللہ رہتا ہے یا وہ شخص ہوتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ سے فیض حاصل کرنا ہوتا ہے اور کچھ نہیں رہتا پس اس اللہ پر ایمان لانا ہے اور یہ بنیادی چیز ہے اس کی تفصیل بہت لمبی ہے۔دراصل اگر اس سارے کارخانہ پر تقریر کی جائے تو سارا اللہ ہی اللہ آجاتا ہے۔چند باتیں میں نے بیان کر دی ہیں اور اللہ پر اس رنگ میں ایمان لانے کے نتیجہ ہی میں پھر إيمَان بِالْأَخِرَة، اِيْمَان بِالْغَيْبِ اور اِيْمَان بِالرُّسُل اور ایمان بِالكُتُب وغیرہ جس کی قرآن کریم نے تفصیل بیان کی ہے جو دراصل ایمان کے مختلف شعبے اور شکلیں ہیں ان پر ایمان پختہ ہوتا ہے اس لئے اگر ایمان باللہ صحیح نہیں تو آگے کچھ نہیں۔آپ بھی دعا کریں میں بھی دعا کرتا ہوں کہ یہ جو ہمارا رب، مالک، پیدا کرنے والا ، رزاق اور متصرف بالا رادہ ہستی ہے جس سے دوری اور بعد ہی ہر قسم کا نقصان اور ضیاع ہے اور جس کے قرب میں ہر قسم کی بھلائی ہے اس پر ہم سب کو حقیقی ایمان نصیب ہو۔ہمارے دل اس ایمان سے منور ہو جائیں اور جس طرح آدمی چٹان پر پختگی کے ساتھ قائم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کی معرفت سے زیادہ کوئی پختہ چیز نہیں۔اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس میں یہ پختگی ہمیں حاصل ہو تا کہ جو کام اللہ تعالیٰ ہم سے لینا چاہتا ہے وہ ہم سے لے اور ہم اس کے ہاتھ میں جا کر کمزور ہتھیار