خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 282
خطبات ناصر جلد سوم ۲۸۲ خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء جس نے کسی امیر کے کمرے میں اس کے دو ہزار بکھرے ہوئے روپے اکٹھے کئے اس نے کوئی محنت کی نا! لیکن مالک یہ ہے اُجرت کوئی ہے نہیں مقرر ، دوستی کے طور پر کام کیا یا مثلاً کئی لوگ ایسے موقعوں پر کسی کا بٹوا ڈھونڈ کر لا دیتے ہیں یا اسی طرح کا کوئی اور کام کر دیتے ہیں اور لوگ انہیں انعام دیتے ہیں لیکن انعام دینے پر وہ مجبور نہیں ہیں۔دنیا کا کوئی قانون یا اخلاقی قانون یا شریعت کا قانون یہ نہیں کہتا کہ اس کا بدلہ دو اللہ تعالیٰ تو مالک کل ہے۔الْمُلْكُ لِلهِ کی رو سے ہر چیز اسی کی ملکیت ہے جب ہر چیز اسی کی ملکیت ہے تو پھر کسی کو کچھ دینے یا نہ دینے کے متعلق اس کے اوپر کسی کا بھی حق نہیں ہے ہر شخص بھی اسی کا ہے اور جو اسے استعدادیں دی گئی ہیں وہ بھی اسی نے دی ہیں اس کا جسم بھی اللہ کا ہے اور جن قومی سے وہ محنت کرتا ہے وہ قومی بھی اللہ تعالیٰ ہی نے اسے دیئے ہیں ورنہ وہ کام ہی نہ کر سکتا۔ایک شخص قرآن کریم کی بڑی کثرت سے تلاوت کرتا ہے اور سوچتا اور غور کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے آنکھیں دیں وہ پڑھنے لگ گیا ورنہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کئی ایسے جاندار کیڑے بھی پیدا کئے ہیں جنکی آنکھیں نہیں ہوتیں صرف اپنے ناک سے سونگھنے کی قوت پر یا کوئی اور طاقت دی ہوگی جس سے وہ چلتے پھرتے ہیں لیکن انسان نے جسمانی اور روحانی غذا کی طرف جانا ہوتا ہے اور وہ بڑی Complicated(کمپلیکیٹڈ ) ہے انسان کی غذا بھی عام غذا نہیں عام کیڑے مثلاً سانپ مٹی چاٹ کر گزارہ کر لیتا ہے۔بچہ مٹی چائے تو ماں اس کے منہ پر چھپڑ مار دیتی ہے کہ کیا گندی حرکت کر رہے ہو حالانکہ اکثر سانپ چھ چھ ماہ تک سوراخوں میں مٹی چاٹ کر گزارہ کر رہے ہوتے ہیں بعض جانور اور بد بودار کیڑے مکوڑے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں سانپ بڑے مزے سے کھا رہا ہوتا ہے مگر بعض حساس طبیعت انسانوں کو دیکھ کر الٹی آجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے سانپ کے لئے اس قسم کی غذا مہیا کر دی مگر انسان کی غذا میں بھی بڑے تنوع کی ضرورت ہے روحانی غذا میں بھی بڑا کچھ چاہیے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔وہ مالک ہے۔کسی کا اللہ تعالیٰ پر حق بن ہی نہیں سکتا۔دنیا تو اس کی غلام اور مملوک ہے اور اس کی مخلوق ہے وہ اس پر کیا حق جتائے گی۔عقل بھی یہ فتویٰ نہیں دیتی کہ تم اللہ پر حق جتا سکو۔پس رحیمیت جزا کا حق قائم کرتی ہے اور صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ حق دیتی یا انکار کر دیتی