خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 284 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 284

خطبات ناصر جلد سوم ۲۸۴ خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء کی طرح ٹوٹ نہ جائیں اس کا تو کوئی نقصان نہیں اس کے پاس اتنے ہتھیار ہیں کہ اگر آپ ٹوٹے تو آپکو پھینک دے گا دوسرے ہتھیار کو پکڑ لے گا۔اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے مگر ہمیں اس کا نقصان ہے۔ہم مارے گئے اگر ہم اس سے دور ہو گئے اگر ہم اس کی ناراضگی کا مورد بن گئے تو پھر ہمارا کہیں بھی ٹھکانا نہیں ہے دنیا ہمیں پہلے ہی اپنی سال سے گالیاں دیتی چلی آ رہی ہے لوگ ہمیں کا فر کہتے چلے آرہے ہیں اور جو اُن کے منہ میں آتا ہے وہ ہمارے خلاف بک دیتے ہیں اور ہمیشہ ہمیں تنگ کرنے اور گالیاں دینے کی نئی سے نئی ترکیبیں سوچتے رہتے ہیں ہم میں سے جو لوگ ایمان پر پختگی سے قائم ہیں وہ ان کی پروا بھی نہیں کرتے کیونکہ اصل ناراضگی اللہ تعالیٰ کی ہے کسی گروہ کی ناراضگی کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی کسی کے پاس ہے ہی کچھ نہیں وہ ہمارا نقصان کیا کرے گا اسے اللہ تعالیٰ نے اتنی طاقت ہی نہیں دی نہ وہ متصرف بالآرادہ ہے پس کوئی منافق کی شکل میں آکر ہمیں دکھ پہنچاتا ہے کوئی مخالف اور معاند کی شکل میں آکر ہمیں دکھ پہنچاتا ہے۔مگر اسی سال میں اس نے کیا کرلیا حالانکہ اس اسی سال کے عرصہ میں جماعت بشاشت کے ساتھ چھلانگیں لگاتی ہوئی اپنی ترقیات کی طرف بڑھتی چلی آرہی ہے اور انشاء اللہ بڑھتی چلی جائے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اگر ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس کے پر کھنے کی ایک ہی کسوٹی ہے اور وہ یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے وہ خود اپنے نفس کو اور ہر دوسری چیز کو مردہ کیڑے سے بھی کم اہمیت دیتا ہے اس صورت میں نہ نفس باقی رہتا ہے اور نہ کوئی اور چیز باقی رہتی ہے اللہ ہی اللہ عیاں ہو کر رہ جاتا ہے اور اگر اللہ ہی اللہ میرے اور آپ کے سامنے ہو تو پھر اور کیا چاہیے اگر اللہ پر ایمان اور اس کی صفات کی معرفت حاصل ہو تو کچھ بھی نہیں چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )