خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 859
خطبات ناصر جلد دوم ۸۵۹ خطبہ جمعہ ۱۲ ستمبر ۱۹۶۹ء کر دیتا ہے جس کے نتیجہ میں دل کے اندر ایک ایسا انقلاب اور ایک ایسا تغیر رونما ہوتا ہے کہ انسان قبول ہدایت کے لئے تیار ہو جاتا ہے لیکن انہوں نے اپنی بداعمالیوں کے نتیجہ میں کانوں پر مہر لگا دی ہے۔کوئی آواز ان کے کانوں میں پڑتی ہی نہیں صوتی لہریں ان کے کانوں سے ٹکراتی اور واپس ہو جاتی ہیں یا ایک کان میں گھستی ہیں اور دوسرے کان سے نکل جاتی ہیں۔پھر ان کو آنکھیں اس لئے دی تھیں کہ وہ اس دنیا میں خدائے حتی وقیوم کے قادرانہ تصرفات کا مشاہدہ کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے۔تاریخ عالم پر نگاہ ڈالتے ،مختلف آسمانی کتابوں کوغور سے پڑھتے اور پھر فکر و تدبر سے کام لیتے تو انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جب سے انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ رُشد و ہدایت کا سلسلہ جاری ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ یہ سلوک رہا ہے کہ جب بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہی اس کی طرف سے نازل ہونے والی ہدایت کو قبول کیا اس کی بارگاہ پر جھک گئے اور اس کی راہ میں قربانیوں سے دریغ نہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے ان پر کس طرح اپنے انعامات نازل کئے اور انہیں کس طرح اپنے فضلوں کا وارث بنایا۔مگر جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کی اس آواز پر کان نہ دھرے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایت کو ٹھکرا دیا اور اس کی قدر نہ کی وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے غضب کے بھنور میں پھنس کر ہلاکت سے دو چار ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان منکرینِ اسلام کی تو یہ حالت ہے کہ گویا ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ فطرتی لحاظ سے ان کی آنکھوں پر کوئی غلاف نہیں تھا۔یہ تو انہوں نے خود اپنی آنکھوں پر چڑھالیا ہے۔ان کی اس حالت گھوڑے یا گدھے کی مانند ہے جس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ چلتے وقت کسی چیز کے خوف سے ڈر نہ جائے۔پس انہوں نے بھی اس خوف سے کہ کہیں روحانیت کی کوئی جھلک ان کی آنکھوں میں نہ پڑ جائے (جو دنیوی عارضی مسرتوں سے ان کو دُور لے جائے) اپنی آنکھوں پر غلاف چڑھالئے ہیں جس کی وجہ سے یہ حسن واحسان کے روحانی جلوے دیکھنے سے قاصر ہیں۔بہر حال سورۃ بقرہ کی ان ابتدائی سترہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منکرین کا ذکر کر کے ان کی جسمانی کیفیات اور ان کے روحانی امراض کی طرف متوجہ کرتے ہوئے سامان عبرت مہیا فرمایا۔