خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 860 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 860

خطبات ناصر جلد دوم ۸۶۰ خطبہ جمعہ ۱۲ر تمبر ۱۹۶۹ء پھر ان کو جھنجھوڑ کر یہ انتباہ فرمایا کہ اگر تمہاری حالت یہی رہی تو تم حق کو ہر گز قبول نہیں کر سکتے۔تم قبول حق کی تو فیق صرف اسی صورت میں پاسکتے ہو کہ تمہاری روحانی اور اخلاقی کیفیت یہ نہ ہو کہ ہمارے اس عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈرانا یا نہ ڈرانا تمہارے لئے برابر ہو۔چاہیے کہ اس کا ڈرانا تمہارے دلوں پر اثر انداز ہو۔جب تک تمہارے اندر یہ تبدیلی رونما نہیں ہوتی جب تک وہ مہریں جو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے قلوب اور اپنے کانوں پر لگالی ہیں ان کو تم توڑ نہ دو اور ہم نے آسمانی مؤثرات کو قبول کر لینے کے لئے تمہارے دل میں جو کھڑکیاں بنا رکھی ہیں۔ان کو تم کھول نہ دو جب تک تم ان غلافوں اور ان پردوں کو جنہیں تم نے اپنی آنکھوں پر ڈال لیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نور سے اپنے آپ کو چھپانے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے نور کے جلوؤں سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے خود ہی تم نے اپنی آنکھوں پر پٹی کے طور پر باندھ رکھے ہیں تم ان کو ہٹا نہ دو، اس وقت تک تمہاری یہ حالت مبدل بہ اسلام نہیں ہو سکتی اور اللہ تعالیٰ کی توجہ کو تم حاصل نہیں کر سکتے۔تم جب تک اپنی یہ حالت نہیں بدلتے خدا تعالیٰ سے دُور و مہجور رہو گے۔دنیا کی جھوٹی اور عارضی لذت سے تم لطف اندوز تو ہو سکتے ہو لیکن اگر تمہاری یہی حالت رہے تو تم اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے پیار کی حقیقی اور سچی لذت اور ابدی سرور کو کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔پس جب تک منکرین دین کی حالت نہیں بدلتی۔اس وقت تک قرآن کریم کی تعلیم یا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ایک اور گروہ بھی دنیا میں پیدا ہوگا اور یہ ان لوگوں کا گروہ ہے جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت پر ایمان لائے لیکن در حقیقت وہ ایمان نہیں لاتے۔ان کا یہ دعویٰ ایمان سراسر جھوٹا ہوتا ہے۔پہلے دو گروہوں کا ذکر نسبتا مختصر الفاظ میں فرمایا کیونکہ اس متن اور مضمون میں ان دو گروہوں کے بارے میں زیادہ کہنے کی ضرورت اس لئے بھی نہیں تھی کہ ان دونوں گروہوں کی خصوصیات اور کیفیات ظاہر و باہر ہوتی ہیں مگر جس گروہ کا ذکر وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے اس کے متعلق نسبتاً زیادہ باتیں بیان کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ یہ گروہ مار آستین بن کر اندر ہی اندر جماعت کے اجتماعی جسم کو ڈستا رہتا ہے۔منکرینِ اسلام ظاہری طور پر باہر سے