خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 858 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 858

خطبات ناصر جلد دوم ۸۵۸ خطبہ جمعہ ۱۲ ستمبر ۱۹۶۹ء ہی بات ہے جیسے کہ ہو چکی ہو اور اگر اس کے راستہ میں کوئی روک پیدا ہوتو وہ اس روک کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی قربانی سے گریز نہیں کرتے۔ان کو یہ پتہ ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے ضرور ہو کر رہے گی۔اگر کوئی روک پیدا ہوئی ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ اس میں ہماری کوئی آزمائش مقصود ہے لہذا ہمیں اس آزمائش میں پورا اترنا چاہیے تا کہ ہمیں ثواب اور اجر کے زیادہ مواقع عطا ہوں۔وہ اس یقین پر بھی قائم ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جسمانی اور روحانی ترقیات کے لا محدود دروازے کھول رکھے ہیں اور ان کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ روحانی رفعتوں کو حاصل کرتے ہوئے کسی ایک مقام پر جا کر رک نہیں جاتے یا اسی کو کافی سمجھ کر وہیں بیٹھ نہیں جاتے بلکہ ان کی زندگی غیر محدود ترقیات کے حصول میں ایک غیر محدود جد و جہد میں رواں دواں رہتی ہے۔غرض سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس ہدایت یافتہ گروہ کی بنیادی خصوصیات پر روشنی ڈالی ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک دوسرا گروہ منکرین اسلام کا گروہ ہے اور ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صداقت حقہ کے قبول کرنے اور دلی بشاشت کے ساتھ قربانیاں دینے کی جو قابلیتیں اور قو تیں عطا کی تھیں یہ ان کو کھو بیٹھے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں روحانی اثر کے قبول کرنے کی صلاحیت بخشی تھی جس سے یہ بہت کچھ سیکھ سکتے تھے لیکن ان کے دل پتھر ہو گئے اور اپنی فطرتی حالت میں نہیں رہے جو رفت کی اور رجوع کی اور توبہ کی اور عاجزی کی حالت ہے اور چونکہ ان کے دل پتھر ہونے کی وجہ سے اپنی فطری حالت پر نہیں رہے اس لئے فطرتی دینی اعمال بجالانے کے قابل نہیں رہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے دل کی بہت سی دوسری امراض بتا ئیں اور ان کے علاج بھی بتائے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے اندر ایک چیز یہ بھی نظر آتی ہے کہ ہم نے انہیں سننے کے لئے کان دیئے تھے اور سماع سے ہماری مراد یہ تھی کہ جب صوتی لہریں ہوا کے دوش پر ان کے کانوں تک پہنچیں تو پھر آگے ان کے اثرات ذہن پر پڑیں جس سے دل بھی متاثر ہوں کیونکہ قبول ہدایت کا ایک بڑا ذریعہ دل ہی ہے۔انسان جب نیکی کی باتیں غور سے سنتا ہے تو اس کا ذہن تدبر سے کام لیتے ہوئے ان کے اثرات کو دل کی طرف منتقل