خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 766
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء اس چھٹی آیت میں بتایا کہ مدبر حقیقی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے وہی آسمانوں اور زمین کی تدبیر میں لگا ہوا ہے۔اس کے بعد آٹھویں آیت میں فرمایا الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ که الله تعالى نے جو مد تر حقیقی یعنی آسمانوں اور زمین کی تدبیر میں لگا ہوا ہے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے اعلیٰ طاقتوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ہمیں ہر چیز میں ایک تدریجی ارتقا نظر آتا ہے۔درخت میں بھی اور جانور میں بھی تدریج کا اصول جاری ہے حتی کہ اگر ہم اپنی نظر کو زمانہ کی وسعتوں میں پھیلا کر دیکھیں تو ہمیں صاف پتہ لگتا ہے کہ جمادات میں بھی تدریجی ترقی کا اصول کارفرما ہے مثلاً زمین سے ارتقائی مدارج طے کرنے کے بعد کوئلہ اور ہیرے اور جواہرات بھی بنتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ میں نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے اس میں بڑی طاقتیں رکھی ہیں میری تدبیر ہی کے نتیجہ میں میری مخلوق کی قابلیتیں اُجاگر ہوتی ہیں اور ان کی طاقتوں کی صحیح نشود نما ہوتی ہے۔میری تدبیر کے نتیجہ میں میرے ہی منشا کے مطابق ہر چیز اپنی شکل اختیار کرتی ہے۔ایک یہ ہیرا ہے کتنے نامعلوم سالوں اور زمانوں میں سے گزر کر وہ ہیرا بنا اسی طرح صدیاں گزرجانے کے بعد کہیں جا کر پتھر کا کوئلہ بنتا ہے لیکن جو چیز پتھر کا کوئلہ بنتی ہے۔۔۔وہ کوئلہ نہیں بن سکتی تھی جب تک اللہ تعالیٰ اس کے اندر یہ طاقت نہ رکھتا اور اس طاقت کے نشو و نما کے سامان نہ پیدا کرتا۔پس يدبر الامر کے بعد ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ ہر چیز کا مربی اور مدبر اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو بھی منصو بہ اس وقت دنیا کی ہر مخلوق پر حاوی اور حاکم ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر کارفرما ہے جس کے نتیجہ میں ہر چیز کی اعلیٰ طاقتیں اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہیں لیکن انسان دوسری مخلوق سے مختلف ہے چنانچہ انسان کے متعلق اسی سورۃ کی دسویں آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ثُمَّ سَوَبِهُ وَ نَفَخَ فِيهِ مِنْ رُّوحِهِ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَنْدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ - (السجدة : ١٠) ہم نے انسان کو مکمل طاقتیں دی ہیں اور جیسا کہ ہمیں دوسری جگہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو جو طاقتیں عطا ہوئی ہیں ان طاقتوں کا تعلق صرف انسانی جسم سے نہیں بلکہ اس کے ذہن سے بھی