خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 765 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 765

خطبات ناصر جلد دوم ۷۶۵ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء کی کوئی ضرورت باقی نہیں رکھی۔ہر چیز کی جتنی اور جس رنگ کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ضروری سامان پیدا کر دیئے مثلاً ہرن ہی کو دیکھ لیجئے اس کے کھانے کی جو ضرورت تھی اس کے سامان پیدا کر دیئے گئے۔ان کے لئے یہ ضرورت باقی نہیں رہی کہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کوئی اقتصادی منصو بہ بنائے یہی حال دوسری مخلوق کا ہے کیونکہ ان کو وہ عقل نہیں دی گئی جو انسان کو دی گئی ہے۔ان کو وہ اخلاقی قوتیں اور استعدادیں نہیں عطا کی گئیں جو انسان کو عطا کی گئی ہیں ان کو وہ روحانی قوتیں اور قابلیتیں نہیں دی گئیں جو انسان کو عطا ہوئی ہیں۔پس یہ جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی قوتیں اور استعداد میں صرف انسان کو بخشی گئی ہیں۔ان قوتوں کی نشوونما کے لئے ضروری تھا کہ انسان کو اختیار دیا جائے اور پھر اس کو کہا جائے کہ یہ راستہ ہدایت کا ہے اور یہ راستہ گمراہی کا ہے۔ہدایت کے راستہ پر چلو گے تو اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرو گے اپنی قوتوں کو ان کی نشوونما کے کمال تک پہنچا سکو گے۔اللہ تعالیٰ نے انسان میں یہ قوتیں اسی لئے ودیعت کی ہیں کہ وہ اس کا قرب حاصل کرے کیونکہ جو شخص اپنی ہر قسم کی قوتوں اور استعدادوں کو صحیح راہوں پر پرورش کر کے ان کو نشو و نما کے کمال تک پہنچاتا ہے وہی کمال قرب الہی کو حاصل کر سکتا ہے ورنہ اس کے بغیر قرب الہی کا حصول ممکن ہی نہیں۔پس چونکہ انسان کی ہر قسم کی قوتوں اور استعدادوں کی کمال نشو و نما مطلوب تھی اللہ تعالیٰ نے ایک حصہ میں انسان کو بھی شامل کیا اور کہا کہ اے انسان ! میں نے تجھے ہر دوسری مخلوق پر فوقیت بخشی ہے۔دوسری مخلوق کے لئے تدبیر کرنا ضروری نہیں لیکن تیرے لئے ضروری ہے کیونکہ تیری کامیابی اس کے بغیر ممکن ہی نہیں لیکن تیری ہر تد بیر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے مطابق خالصہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہونی چاہیے اگر تیری تدبیر خالصہ اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں ہوگی تو پھر تو اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے گا تو اپنی قوتوں اور قابلیتوں کی صحیح نشو و نما نہیں کر سکے گا۔سورہ سجدہ میں مذکورہ آیت نمبر 4 سے پہلے اور بعد کی بھی بہت سی آیات میں دراصل یہی مضمون بیان ہوا ہے چونکہ خطبہ میں زیادہ لمبا مضمون بیان نہیں ہو سکتا اس لئے میں نے اس میں سے بعض ٹکڑے منتخب کر لئے ہیں۔شاید ان میں سے بھی مجھے کچھ چھوڑنے پڑیں گے غرض سورہ سجدہ کی