خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 767
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء ہے اس کے اخلاق سے بھی ہے اس کی روحانیت سے بھی ہے دوسری مخلوق کو صرف جسمانی طاقت ملی ہے جبکہ انسان کو یہ چاروں قسم کی طاقتیں ملی ہیں۔اگر چہ یہ صحیح ہے کہ ایک حد تک انسانی ذہن سے کچھ خفیف سا ملتا جلتا ذہن جانوروں کو بھی ملا ہے لیکن وہ انسانی ذہن سے اتنا مختلف ہے اور اس میں اتنا فرق ہے کہ ہم اس کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔مثلاً انسان کے علاوہ کوئی جانور چاند پر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن انسان نے سوچا اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کو سمجھا اور اس سے فائدہ حاصل کیا اور چاند پر پہنچ کر واپس بھی آگیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہ صرف جسمانی طاقتیں دی ہیں بلکہ ذہنی ، اخلاقی اور روحانی طاقتوں سے بھی نوازا ہے اور اس طرح انسان کو دوسری مخلوق کے مقابلہ میں ایک ارفع مقام عطا کیا ہے اس لئے فرمایا کہ میں نے ان طاقتوں کو عطا کرنے کے بعد ان کی کامل نشو ونما کے لئے صرف وہ سامان پیدا نہیں کئے جو غیر انسان کی طاقتوں کے لئے پیدا کئے گئے تھے بلکہ ایک نیا سامان بھی پیدا کیا ہے اور وہ فخر روح ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ سب طاقتیں دینے کے بعد اس سے فرمایا کہ میں یہ طاقتیں تجھے دیتا ہوں اگر تو ان کی صحیح نشو نما کر سکے اور اس نشو و نما کو کمال تک پہنچا سکے تو آخری نتیجہ یہ نکلے گا کہ تو میرا ایک پیارا بندہ بن جائے گا لیکن تو اپنی قوتوں اور طاقتوں کی صحیح نشو ونما نہیں کرسکتا جب تک تجھے میرے الہام اور وحی کی روشنی حاصل نہ ہو اس لئے میں نے تیرے لئے یہ سامان بھی پیدا کر دیا ہے تا کہ یہ نعمت میسر آ جانے کے بعد تیرے لئے یہ ممکن ہو جائے کہ تو اپنی طاقتوں کو اس رنگ میں کمال تک پہنچائے کہ تیرا رب تجھ سے راضی ہو جائے یہ شرف انسان کو نفخ روح یعنی الہی کلام کے نازل ہونے کے نتیجہ میں عطا ہوتا ہے۔ہر زمانے کے لحاظ سے انسان بحیثیت نوع جس قدر اپنی قوتوں کو کمال تک پہنچا سکتا تھا اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے جس الہام کی ضرورت تھی ، جس ہدایت کی ضرورت تھی وہ اس کو انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ عطا کی جاتی رہی اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور آپ کے ذریعہ سے وہ کامل ہدایت اور اکمل شریعت اور اعلیٰ تعلیم نازل ہوئی کہ اگر انسان اس پر عمل کرے تو انسانیت کے کمال کو پہنچ کر اللہ تعالیٰ کا محبوب ترین بندہ بن سکتا ہے۔یہ بلند مرتبہ پہلی امتوں کے لئے ممکن ہی نہیں تھا پہلی اُمتوں اور اُمت محمدیہ کے