خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 752 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 752

خطبات ناصر جلد دوم ۷۵۲ خطبہ جمعہ ۱۸ / جولائی ۱۹۶۹ء لیکن ایک شخص جسے مثلاً اللہ تعالیٰ نے ترقی کرنے کی سوا کائیاں عطا کی ہوں مگر وہ اپنے سکتے پن کی ا وجہ سے ان میں سے پچاس کو ضائع کر دے تو وہ اس سیب کی طرح ہے جس کا آدھا حصہ گلا سڑا ہوا ہوتا ہے یا اس کی حالت اس آم کی سی ہے جس کی ایک طرف کیڑا لگ جاتا ہے اور دوسری طرف سے قابل استعمال بھی ہوتا ہے یا ایک ایسی سیڑھی کی طرح ہے جو درمیان میں سے ٹوٹ گئی ہو یا اس کی مثال ایسے پرندے کی ہے جس کے اڑن پروں ( پرندوں کے جو پر ہوتے ہیں ان کے بعض حصے پرندے کو اڑنے میں مدد دیتے ہیں اور بعض اس کے Balance ( توازن ) کو قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں ) میں سے دو چار پر گر گئے ہوں اور وہ اتنی پرواز کے قابل نہ رہا ہو جتنی پرواز کی طاقت اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کر رکھی ہے۔ہم نے بعض دفعہ شکار کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ اگر کسی مرغابی کے پر کا اگلا حصہ معمولی سا بھی زخمی ہو جائے تو وہ اپنی ڈار کے ساتھ اُڑ نہیں سکتی۔غرض جو چیز اپنی ڈار کے ساتھ اڑ نہیں سکتی اس کے متعلق آپ سمجھ سکتے ہیں کہ پھر وہ منافقوں کی ڈار کے ساتھ مل جاتی ہے۔منافق کے اندر بھی پہلے تھوڑی سی کمزوری پیدا ہوتی ہے پھر گلے شکوے پیدا ہوتے ہیں جس کی ذمہ داری دراصل خود اس پر عائد ہوتی ہے پھر وہ ایسی تکلیف محسوس کرتا ہے جو درحقیقت کسی اور کی پیدا کردہ نہیں ہوتی۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا اور ہمیں قابلیتیں اور طاقتیں عطا کیں اور ہمیں حکم دیا کہ تم اپنی قابلیت کی زیادہ سے زیادہ نشو و نما کرو اور ساتھ یہ تسلی بھی دی کہ میں نے تمہاری طاقتوں اور قابلیتوں کی نشوونما کو کمال تک پہنچانے کے سامان بھی پیدا کر دیئے ہیں لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی دین یا عطا کو ضائع کر دیتا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے کسی کے عضلوں کو بڑا مضبوط بنایا ہے مگر وہ اپنی اس طاقت کو عیاشی اور مختلف نشوں کی وجہ سے ضائع کر دیتا ہے تو وہ اپنے کمال کو پہنچ نہیں سکتا۔مختلف قسم کے نشے انسان کی جسمانی اور ذہنی طاقتوں کو مضمحل اور اس کی اخلاقی اور روحانی طاقتوں کو تباہ کر دیتے ہیں پھر ایسا انسان ان رفعتوں تک پہنچ نہیں سکتا جن رفعتوں تک پہنچا اللہ تعالیٰ اس سے چاہتا تھا اور جن رفعتوں تک پہنچنےکو اللہ تعالیٰ پیار کی نگاہ سے دیکھتا اور اپنی محبت سے نواز تا مگر جس شخص نے اپنے رب کی معرفت کو حاصل کیا جس نے اپنے نفس کو پہچانا جو علی وجہ البصیرت اس