خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 751 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 751

خطبات ناصر جلد دوم ۷۵۱ خطبہ جمعہ ۱۸ / جولائی ۱۹۶۹ء دراصل اس نکتے پن کی وجہ سے انسان کے قومی صحیح اور پورے طور پر نشو و نما حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے اوپر وہ زیادہ سے زیادہ بوجھ نہیں پڑا، جس کے اٹھانے کے لئے اس نے تدریجی طور پر خود کو قابل بنا لینا تھا مزید بوجھ اُٹھانے کا۔اگر وہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق جس میں تدریج کارفرما ہوتی ہے اپنے مقام اور وقت کے لحاظ سے اور تربیت کے لحاظ سے اور حاصل کردہ نشو و نما کے لحاظ سے جتنا بوجھ اُٹھا سکتا تھا اُٹھاتا تو سفارش کی ضرورت بھی نہ پڑتی اور قوم کو ایک ذہن کے ضائع ہونے کا نقصان بھی نہ ہوتا۔سفارشوں سے حصول مال کی کوشش بھی سکتے پن کا نتیجہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں قوت عطا کی ہے اور ساتھ ہی ہمیں تسلی بھی دی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کو قوت تو اتنی دی کہ وہ صرف پانچ افراد کا پیٹ بھر سکے یا کپڑے وغیرہ کا انتظام کر سکے اور ان کی دوسری اقتصادی ضروریات کا کما حقہ خیال رکھ سکے لیکن عملاً اس کا خاندان دس افراد پر مشتمل ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو تسلی دیتا ہے کہ میں صرف رحیم ہی نہیں، بلکہ رحمان بھی ہوں۔تم اپنی طرف سے پوری کوشش کرو اپنی طاقت اور قوت کو خرچ کرو تمہیں اس کا بدلہ مل جائے گا اس طرح خدا کی صفت رحیمیت کے ماتحت پانچ افراد کا تو گزارا ہوگیا باقی پانچ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اسے تسلی دی کہ میری صفت رحمان بھی ہے میں نے ان کا انتظام کیا ہوا ہے۔میں نے ان کے حصہ کا مال کسی اور کو دیا ہوا ہے اور اس کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ تمہارے باقی ماندہ افراد کے حق کو تمہارے تک پہنچائے تاکہ تمہارے حقوق پورے ہوں۔لیکن جو شخص نکتا رہتا ہے اس کی قوتیں اپنے نشو و نما کے کمال تک نہیں پہنچ سکتیں۔ایک بیمار پھل کی طرح اس کی نشوونما بھی داغدار ہوگی اس کی شخصیت کی اس کے نفس کی کما حقہ نشوونما نہیں ہو سکے گی اور اس طرح انسان کا مقصدِ حیات پورا نہیں ہو سکے گا کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے بندے میں اپنی صفات کا ظل دیکھنا چاہتا ہے یہی اس کی پیدائش کی غرض ہے اور عبادت الہی کا مقصد بھی یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے حسن میں رنگین ہو جائے اور اس کے احسان کے جلوے اس کے نفس سے پھوٹنے شروع ہو جائیں یہ عبادت کا ایک طبعی نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو اسی غرض کے لئے پیدا کیا ہے اس سے نہ صرف خود انسان کو فائدہ ہوتا ہے بلکہ دنیا کو بھی فائدہ پہنچتا ہے