خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 753
خطبات ناصر جلد دوم ۷۵۳ خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۶۹ء حقیقت پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے نہایت ہی اعلیٰ اور ارفع درجہ کے قُرب کے حصول کے لئے پیدا کیا ہے مگر پھر وہ اپنی غفلت کو تا ہی اور نکتے پن کی وجہ سے اس مقام کو حاصل نہیں کر سکا۔اس سے بڑھ کر اور دوزخ کیا ہو گی جس میں وہ اس احساس کی وجہ سے جلتا رہتا ہے کہ میں نے تو اپنے رب کی محبت اور پیار کو حاصل کرنا تھا مگر میں اپنے گناہوں کی وجہ سے اسے حاصل نہیں کر سکتا۔بہر حال دنیا کے مختلف ملکوں، مختلف خطوں اور مختلف خاندانوں میں گندی عادتیں اس قدر وسعت سے پیدا ہو چکی ہیں کہ اگر میں ان کو گنوانا شروع کر دوں تو شاید ان کی تعظیم کتا بیں بن جائیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اصولی طور پر تمہاری ہر عادت میرے حکم اور فرمان کے ماتحت ہونی چاہیے، تمہاری ہر عادت کو تمہاری قوتوں اور استعدادوں کی نشو ونما میں ممد ہونا چاہیے کیونکہ میں نے ان کی کما حقہ نشو و نما کے لئے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے مالی قربانی کی عادت ہوتی ہے، وقت کی قربانی کی عادت ہوتی ہے۔بہت سے تہجد پڑھنے والے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے ابتدا میں ہفتہ میں ایک بار پندرہ منٹ کے لئے اٹھنا شروع کیا، پھر ہفتے میں دوبار پندرہ منٹ کے لئے اٹھنا شروع کیا پھر پندرہ منٹ کے لئے سارا ہفتہ اُٹھتے رہے پھر پندرہ منٹ سے ہوتے ہوتے آدھا گھنٹہ ، پھر گھنٹہ اور پھر ڈیڑھ گھنٹہ تک اٹھنے کی توفیق ملی اور اس طرح عادت زیادہ سے زیادہ پختہ ہوتی گئی۔جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا کہ انسان کو اپنے اندر نیک عادت ڈالنے کی قابلیت کی توفیق پانا اللہ تعالی کی ایک نعمت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرما یا ہے کہ مبتدی کے لئے روحانی ارتقا کے دور میں ایک عظیم مجاہدہ کرنا پڑتا ہے وہ بڑی کوشش سے اپنے نفس پر زور ڈال کر اور قربانی دے کر خدا تعالیٰ کے لئے کام کر رہا ہوتا ہے بعد میں اس پر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ اس کی عادتیں پختہ ہو کر اتنی ترقی کر جاتی ہیں کہ وہ بغیر کسی احساس کے قربانی دیتا ہے۔حتی کہ اس کے Conscious Mind میں بھی نہیں ہوتا کہ میں خدا تعالیٰ کے لئے کچھ کر رہا ہوں۔چنانچہ وہ اس سے بھی آگے نکل جاتا ہے اور پھر اپنی طاقت کے مطابق اور زیادہ