خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 616 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 616

خطبات ناصر جلد دوم ۶۱۶ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء جو ہفتے میں ایک بار کسی معین وقت میں کسی خاص جگہ پر عبادت کر لینا کافی سمجھتے ہیں اور انہیں یہ خیال ہوتا ہے کہ اس طرح وہ حق جو اللہ تعالیٰ نے بطور رب اور خالق اور رحمن اور رحیم اور مالک کل ہونے کے ہم پر قائم کیا تھا وہ ہم نے ادا کر دیا۔بعض ایسے مذاہب ہیں جن کے لئے ہفتے میں ایک دن بھی کسی خاص جگہ جمع ہو کر عبادت کرنا ضروری نہیں قرار دیا گیا۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ محض خیالوں خیالوں میں اللہ تعالیٰ کو یاد کر لینا کافی ہے پھر بندے پر اس کے رب کے تمام حقوق جو ہیں وہ ساقط ہو جاتے ہیں، ذمہ داریاں جو ہیں وہ ادا ہو جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ان آیات میں یہ فرمایا ہے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا تھا تو ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین ہو کر کرو اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ فقرہ انسان پر عبادت سے تعلق رکھنے والی گیارہ ذمہ داریاں ڈالتا ہے۔اختصار کے ساتھ گو قدرے (اس کے مقابلے میں جو میں کہوں گا یا کہہ رہا ہوں ) تفصیل کے ساتھ میں نے ان خطبات میں ان گیارہ ذمہ داریوں کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔اب ”دین“ کے مختلف معانی کی رو سے اپنے رب سے محبت کرنے والے ایک بندے پر یہ فقرہ جو گیارہ ذمہ داریاں ڈالتا ہے وہ یہ ہیں کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے مخصوص ہو۔اسے واحد و یگانہ یقین کرتے ہوئے اس کی عبادت اور پرستش کی جائے، کسی قسم کا شرک ظاہری یا باطنی ، جلی یا خفی نہ ہو، نہ کسی کو عزت و احترام کا وہ مقام دیا جائے جو صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس رنگ میں کرو کہ اطاعت اور فرمانبرداری صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہو، غیر اللہ کی غلامی کی زنجیروں کو کاٹ ڈالو، اللہ تعالیٰ کے بندے بن کر اور اس بندگی میں ہر غیر سے آزاد ہو کر اپنی زندگیوں کے دن گزارو۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ہو اور جہاں بندوں کی اطاعت کرنی پڑے وہ بھی کسی غیر اللہ کے دباؤ سے یا بُرے خیالات کے نتیجہ میں نہ ہو بلکہ احکامِ الہی کی روشنی میں ہو۔حقیقی عبادت تیسری بات کا جو تقاضا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے اخلاق اللہ تعالیٰ کے اخلاق