خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 615 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 615

خطبات ناصر جلد دوم ۶۱۵ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء عبادت کی ذمہ داریوں کو نباہنے کے لئے تین چیزیں بنیادی ہیں خطبه جمعه فرموده ۹ رمئی ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں۔وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ - وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ - (الذُریت : ۵۶ تا ۵۷) وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزكوة وَذُلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ - (البينة : ٢) اس کے بعد حضور نے فرمایا :۔میں نے پچھلے خطبات میں بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ان آیات میں جو میں خطبہ سے پہلے تلاوت کرتا ہوں ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ انسانی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ بندے اور اس کے خالق رب کے درمیان عبودیت تامہ کا تعلق قائم ہو جائے اور اس کا بندہ اسی کی عبادت کرے اور پھر بتایا کہ عبادت سے اس قسم کی عبادت مراد نہیں جو دوسرے مذاہب والے اپنے خیال کے مطابق یا بگڑی ہوئی تعلیم کے مطابق کرتے ہیں مثلاً دنیا میں بعض مذاہب ایسے ہیں